امن و امان

ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر کی میڈیا سے گفتگو، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر شدید تنقید

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، سہیل آفریدی اکیلے نہیں بلکہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔

اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور تمام صوبے آئین کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق عوام نے انتخابات میں بانی پی ٹی آئی کو اکثریت دی، تاہم ان کا الزام تھا کہ حکمران عوام سے خوفزدہ ہیں اور مسلسل پاکستان تحریک انصاف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے ملک میں معاشی بحران اور امن و امان کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے ختم کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں ایمرجنسی کے باوجود امن قائم نہ ہونے کی صورت میں خیبرپختونخوا کے لیے اس اقدام کا کیا جواز ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی تقریباً چار کروڑ ہے اور وہاں بڑی تعداد میں نوجوان رہتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام اور ان کے انتخابی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے سے نوجوانوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ ان کے ووٹ کی اہمیت نہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کی گرفتاری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران وزیراعظم اور صدر کے رویے پر انہیں اعتراض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا۔

لانگ مارچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تھی، تاہم حکومت نے غیر مشروط طور پر آپریشن کی حمایت کا مطالبہ کیا اور عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی بات کی۔

علامہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی اکیلے نہیں ہیں بلکہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button