111 کنال اراضی کے بدلے الاٹ 10 پلاٹس کو قانونی تحفظ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم حکم
جسٹس اعظم خان نے شہری ساجد اسلم کی درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے سیکٹر آئی-12/4 کے 10 پلاٹس کو منجمد کرنے اور تیسرے فریق کو منتقل کرنے سے روک دیا۔ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مقدمے کی پیروی کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نادرا ای بیلیٹنگ 2022 کے ذریعے سیکٹر آئی-12/4 میں الاٹ کیے گئے 10 پلاٹس کو منجمد کرنے یا کسی تیسرے فریق کو منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو متنازعہ پلاٹس کے حوالے سے کسی بھی منفی کارروائی یا تبدیلی سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
جسٹس اعظم خان نے شہری ساجد اسلم کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مقدمے کی پیروی کی۔
عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی درخواست گزار کے خلاف دوبارہ کارروائی کرنے یا نوٹس جاری کرنے سے روک دیا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کی 111 کنال اراضی عوامی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی تھی، جس کے عوض انہیں قانون کے مطابق 10 پلاٹس الاٹ کیے گئے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار مزید انکوائری کے لیے مطلوب نہیں۔ عدالت کے مطابق کسی نئے مواد یا قانونی جواز کے بغیر بند شدہ انکوائری دوبارہ کھولنا غیر قانونی ہے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 13 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی معاملے میں کسی شخص کو بار بار انکوائری یا سزا کے عمل سے دوچار نہیں کیا جا سکتا۔



