این سی سی آئی اے

بچوں کی ویڈیوز کی مبینہ خرید و فروخت کا انکشاف، این سی سی آئی اے کی تحقیقات

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان کے مطابق بچوں سے متعلق تقریباً 50 سے 60 ویڈیوز ملنے کے بعد چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی میں ایک نوعمر لڑکے سے رابطے کے معاملے کی الگ تحقیقات بھی جاری ہیں۔

اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بچوں کے مبینہ آن لائن استحصال اور کم عمر بچوں سے متعلق ویڈیوز کی تقسیم کے معاملے میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے جمعے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایک بچے کے موبائل فون سے تقریباً 50 سے 60 ویڈیوز برآمد ہوئیں۔ ان کے مطابق، اس کے بعد ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

شعیب خان کی بریفنگ سے متعلق شائع شدہ اطلاعات کے مطابق، مشتبہ افراد مبینہ طور پر انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے چھ سے 14 سال کی عمر کے بچوں سے رابطہ کرتے، ان سے تعلق قائم کرتے اور رقم کی پیشکش کے بعد انہیں ویڈیوز بنانے پر آمادہ کرتے یا مجبور کرتے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق، یہ مواد پاکستان اور بیرون ملک شیئر یا فروخت کیا جاتا تھا۔

یہ الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور گرفتاری کسی ملزم کے جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔

شعیب خان نے ایک الگ معاملے کا بھی ذکر کیا جس میں ایک والد پر مبینہ طور پر اپنے ہی بچوں کی ویڈیوز بنا کر رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔ اس حوالے سے بچوں کی شناخت یا الزام کی آزادانہ تصدیق کے لیے تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

ویڈیوز کی تقسیم کے ذرائع سے متعلق وضاحت درکار

اسلام آباد ٹریبیون کو فراہم کردہ بریفنگ نوٹس میں ٹیلی گرام کا ذکر ہے، جبکہ اسلام آباد میں گرفتاریوں سے متعلق شائع شدہ رپورٹس میں واٹس ایپ گروپس اور بیرون ملک خریداروں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایجنسی نے تاحال واضح نہیں کیا کہ آیا دونوں پلیٹ فارمز استعمال ہوئے تھے۔ اس لیے کسی ایک پلیٹ فارم کو تصدیق شدہ ذریعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ڈارک ویب کیا ہے؟

ڈارک ویب انٹرنیٹ کا ایک محدود حصہ ہے جس تک رسائی کے لیے مخصوص سافٹ ویئر یا پرائیویسی نیٹ ورکس درکار ہوتے ہیں۔ ٹور (Tor) اس کی ایک مثال ہے، جو متعدد نیٹ ورک ریلے کے ذریعے رابطوں کو منتقل کر سکتا ہے اور ایسی ویب سائٹس تک رسائی دیتا ہے جن کے پتے عموماً “.onion” پر ختم ہوتے ہیں۔

ڈارک ویب اور ڈیپ ویب میں فرق ہے۔ ڈیپ ویب میں ای میل اکاؤنٹس، پاس ورڈ سے محفوظ ڈیٹا بیس اور ایسا مواد شامل ہوتا ہے جسے سرچ انجن انڈیکس نہیں کرتے۔

اسی طرح ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز ہیں، ڈارک ویب نہیں۔ کسی گروپ کا ان ایپس پر سرگرم ہونا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ٹور یا کسی دوسرے ڈارک ویب نیٹ ورک کے ذریعے کام کر رہا ہے۔

اسلام آباد کے مشتبہ افراد کے ڈارک ویب استعمال کرنے کی تصدیق بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب کراچی کے ایک الگ کیس میں این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ غیر ملکی اداروں کی معاونت سے ایک نوعمر لڑکے سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے اور بعد ازاں ایک پیغام رسانی گروپ سے اس کے تعلق کی تحقیقات کی گئیں۔ ایجنسی کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

بچوں کو آن لائن استحصال سے کیا خطرات لاحق ہیں؟

پرائیویسی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے جائز مقاصد بھی ہیں، تاہم آن لائن گمنامی استحصال کرنے والے افراد کی شناخت مشکل بنا سکتی ہے۔ بچوں سے رابطہ عام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شروع ہو سکتا ہے اور بعد میں نجی چیٹس میں منتقل ہو سکتا ہے، جہاں رازداری، رقم، دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق یونیسیف کی معاونت سے تیار کردہ تحقیق Disrupting Harm in Pakistan کے مطابق، 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے، یعنی لگ بھگ 15 لاکھ بچوں، کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، خوف، سماجی بدنامی اور خاندان کے ردعمل کا خدشہ متاثرہ بچوں کے لیے مدد طلب کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

شعیب خان نے بتایا کہ این سی سی آئی اے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے مطابق، جامعات اور اسکولوں میں آگاہی سیشنز منعقد کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جن میں والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایجنسی کی ہیلپ لائن 1799 فعال ہے۔

کال سینٹرز کے خلاف الگ کارروائی، 671 گرفتار

این سی سی آئی اے نے اسلام آباد میں کال سینٹرز کے خلاف الگ کارروائیوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ ایجنسی کے مطابق، 16 مراکز پر چھاپوں کے دوران 671 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 473 غیر ملکی اور 198 پاکستانی شہری شامل ہیں۔

ایجنسی نے تقریباً 13 ہزار الیکٹرانک آلات قبضے میں لینے کا بھی بتایا۔ حکام کے مطابق، آلات کا فرانزک معائنہ جاری ہے تاکہ مبینہ سرگرمیوں، ممکنہ متاثرین اور نیٹ ورکس کے روابط کا تعین کیا جا سکے۔ یہ گرفتاریاں الگ تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان سے کسی فرد کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔

پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ کا مسئلہ صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں بچوں سے رابطہ کرنے والے افراد کی شناخت، والدین اور تعلیمی اداروں کا ردعمل اور متاثرین کو خوف یا الزام تراشی کے بغیر شکایت درج کرانے کے مواقع بھی اہم ہیں۔

یونیسیف نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کے سائبر کرائم قانون میں بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کے لیے اب بھی ایسی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جو اس جرم کی نوعیت کو درست طور پر بیان کرنے کے بجائے اسے فحش مواد کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button