پولیس افسر کی ترقی کی اپیل مسترد؛ قائد اعظم کا 1948 کا خطاب سرکاری ملازمین کے لیے اصول قرار
جسٹس علی باقر نجفی نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جس میں سول سرونٹس کے لیے سیاسی دباؤ سے آزاد رہنے پر زور دیا گیا۔ "حکومتیں بدلتی ہیں مگر سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے"، وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر کی ترقی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قائد اعظم کے 1948 کے ارشادات کو سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی اصول قرار دے دیا۔

فیصلے کا پس منظر اور قائد اعظم کا وژن
وفاقی آئینی عدالت نے پولیس سروس کے افسر تنویر احمد طاہر کی گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی نہ پانے کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس تاریخی فیصلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کی اپریل 1948ء میں پشاور میں سول افسران سے کی گئی تاریخی تقریر کو ملازمین کے لیے بنیادی اصول بنا دیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سول سرونٹس کبھی بھی کسی سیاسی دباؤ، سیاسی جماعت یا سیاستدان کے اثر میں نہ آئیں کیونکہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو قائم رہتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے افسر تنویر احمد طاہر کی گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی نہ دینے کے خلاف اپیل مسترد کر دی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کا 15 فروری 2022 کا فیصلہ برقرار رکھا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں ترقی کے قانونی تقاضوں، سلیکشن بورڈ کے اختیارات اور زیرِ التوا فوجداری کارروائیوں کے ترقی کے معاملات پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
قائداعظم کی سرکاری افسران کے لیے رہنمائی
فیصلے میں قائداعظم محمد علی جناح کے اپریل 1948 میں پشاور میں سرکاری افسران سے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی غیر جانب داری، دیانت داری اور ریاست و عوام کی خدمت کے اصولوں کو اجاگر کیا گیا۔ عدالت نے یاد دلایا کہ قائداعظم کے مطابق سرکاری ملازمین کو سیاسی دباؤ، سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔ فیصلے میں اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ عدالت کے مطابق سرکاری افسران کو ریاست اور عوام کی دیانت داری اور بے خوفی کے ساتھ خدمت کرنی چاہیے، جبکہ سیاسی مداخلت بدعنوانی، رشوت اور اقربا پروری جیسے سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
ترقی کے معاملے کا پس منظر
تنویر احمد طاہر نے 1999 میں سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کا امتحان پاس کیا اور بعد ازاں پولیس سروس آف پاکستان میں شامل ہوئے۔ انہیں 22 جون 2007 کو گریڈ 18 اور 16 جنوری 2015 کو گریڈ 19 میں ترقی دی گئی۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایک ریفرنس میں سزا کے بعد 2018 اور 2019 میں ان کی ترقی مؤخر کر دی گئی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ نے 8 نومبر 2019 کو انہیں اس ریفرنس میں بری کر دیا، جس کے بعد 24 جنوری 2020 کو انہیں دوبارہ ملازمت پر بحال کر دیا گیا۔
جنوری 2020 میں سینٹرل سلیکشن بورڈ نے اپنے چوتھے اجلاس میں ان کی ترقی کے معاملے پر دوبارہ غور کیا، تاہم نیب کا ایک اور ریفرنس زیرِ التوا ہونے کے باعث انہیں ترقی کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔ اسی دوران ان کے بعض جونیئر افسران کو 2020 میں ترقی دے دی گئی۔ تنویر احمد طاہر نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم سنگل بینچ اور ڈویژن بینچ دونوں نے ان کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ ڈویژن بینچ نے 15 فروری 2022 کو اپنے فیصلے میں ترقی نہ دینے اور جونیئر افسران کو ترقی دینے کے اقدام کو برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ کے مطابق سلیکشن بورڈ نے متعلقہ قواعد اور سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے مطابق کارروائی کی تھی۔
فاروق ایچ نائیک کے دلائل
سماعت کے دوران اپیل کنندہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ تنویر احمد طاہر نے سینئر مینجمنٹ کورس میں 74 فیصد نمبر حاصل کیے تھے، جبکہ ان کے مجموعی کارکردگی اسکور 76.5 فیصد تھے۔ وکیل کے مطابق سلیکشن بورڈ نے افسر کو 30 میں سے صرف 10 نمبر دیے اور اس کی معقول وجوہات بھی فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ افسر کی کارکردگی کی جائزہ رپورٹ (پی ای آر) یا سالانہ خفیہ رپورٹ (اے سی آر) میں کبھی کوئی منفی رائے درج نہیں کی گئی تھی۔
فاروق ایچ نائیک نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ صرف نیب ریفرنس زیرِ التوا ہونے کی بنیاد پر سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت کسی افسر کو ترقی میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق محکمانہ غفلت یا عدم کارروائی کی وجہ سے افسر کی ترقی مؤخر نہیں ہونی چاہیے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ کم اسکور حاصل کرنے والے جونیئر افسران کو ترقی دے دی گئی، جبکہ ان کے مؤکل کو تربیتی نتائج اور کارکردگی کے ریکارڈ کے باوجود ترقی سے محروم رکھا گیا۔
ترقی کے لیے لازمی نمبروں سے متعلق عدالتی مؤقف
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سلیکشن بورڈ کی جانب سے 10 نمبر دیے جانے کے بعد تنویر احمد طاہر نے مجموعی طور پر 70 میں سے 63.56 نمبر حاصل کیے تھے، جو گریڈ 20 میں ترقی کے لیے سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت مقررہ کم از کم 70 نمبروں سے کم تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازم ترقی کو اپنا خودکار حق قرار نہیں دے سکتا، تاہم اسے یہ حق حاصل ہے کہ اس کے ترقی کے معاملے پر قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق غور کیا جائے۔ فیصلے میں سلیکشن بورڈ کی جانب سے دیے گئے نمبروں کے عدالتی جائزے کی حدود کا بھی ذکر کیا گیا۔ عدالت کے مطابق سلیکشن بورڈ کے نمبروں اور اس کی معروضی جانچ کو معمول کے طور پر عدالت میں اس طرح دوبارہ نہیں پرکھا جا سکتا جیسے عدالت خود ترقی دینے کی مجاز اتھارٹی ہو۔
بریت سے محکمانہ کارروائی خودبخود ختم نہیں ہوتی
فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ کسی فوجداری مقدمے میں بری ہونے سے افسر کے ترقی کے معاملے پر اثرات کا جائزہ قانون کے مطابق لیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی افسر زیرِ التوا فوجداری ریفرنس میں بری ہو جائے تو اس کی ترقی کے معاملے پر قانون کے مطابق دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔
تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فوجداری مقدمے میں بریت سے الگ محکمانہ تادیبی کارروائی خودبخود ختم نہیں ہو جاتی۔ فوجداری کارروائی اور محکمانہ کارروائی اپنے اپنے قانونی تقاضوں کے تحت چلتی ہیں۔ فیصلے میں ترقی کے معاملات پر متعلقہ قواعد کے مطابق غور کرنے کی ضرورت اور فوجداری کارروائی و محکمانہ تادیبی کارروائی کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا گیا۔



