گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کیس، چار ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے مقدمے میں گرفتار چار ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی نے ملزمان کی جانب سے 100 سے زائد گردوں کی پیوندکاری اور لوگوں کی زندگیاں بچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بری کرنے اور ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کیس کے مقدمے میں گرفتار چار ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ ایف آئی اے نے ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں پیش کیا۔
سماعت کے دوران جج شائستہ کنڈی نے ملزم سے استفسار کیا کہ سرجری کون کرتا تھا اور اس کی تعلیم کیا ہے؟ ملزم نے جواب دیا کہ وہ میٹرک پاس ہے۔
اس پر جج شائستہ کنڈی نے ریمارکس دیے کہ میٹرک پاس شخص سرجری کرتا ہے اور مریض ٹھیک بھی ہو جاتا ہے؟
وکیل صفائی کا ملزمان کے حق میں مؤقف
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان نے 100 سے زائد گردوں کی پیوندکاری کرکے لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو بری کرنے کے بجائے ایوارڈ ملنا چاہیے۔
ایف آئی اے کی مزید ریمانڈ کی استدعا
ایف آئی اے نے عدالت سے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے جڑے مزید افراد کو گرفتار کرنا ہے۔
جج شائستہ کنڈی نے استفسار کیا کہ مزید ریمانڈ کیوں درکار ہے؟ اس موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ وکیل صفائی کا مؤقف ایسا ہے جیسے ملزمان نے جرم بہت اچھی طرح کیا ہو۔
عدالت نے چاروں ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

