سیکٹر آئی 12 میں جعلی الاٹمنٹ پر سی ڈی اےافسران کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج
ایف آئی اے نے سیکٹر آئی 12/4 میں 10 پلاٹوں کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ پر سی ڈی اے افسران، اہلکاروں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، اب تک ایک ملزم گرفتار
اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے لینڈ اینڈ ریہیبلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف مبینہ غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کے معاملے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مقدمے میں سیکٹر آئی 12/4 میں 20 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 10 پلاٹوں کی مبینہ جعلی اور غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزامات شامل ہیں۔
مقدمے میں سابق ڈائریکٹر عرفان اللہ، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل افنان عالم، سابق ڈائریکٹر سدرہ انوار، سی ڈی اے کونسل کے لطیف سعیدی اور ایڈمن آفیسر اصغر علی کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیلنگ اسسٹنٹس فقیر محمد اور محمد اطہر خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ سے مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزام میں پراپرٹی ڈیلر ساجد اسلم اور دیگر افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اس وقت کے ممبر اسٹیٹس سی ڈی اے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر یاسر شاہ کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔
مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 سمیت بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اب تک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر افراد کے کردار اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔
