اسلام آباد پولیس

اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کا معاملہ، بیرونِ ملک داخلے کے نام پر مبینہ فراڈ کی تفصیلات سامنے آگئیں

گولڈ میڈلسٹ لائبہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں، اہلخانہ کے مطابق داخلے کے نام پر 21 لاکھ روپے کا مبینہ فراڈ ہوا

اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے میں اہلخانہ نے بیرون ملک تعلیم کے نام پر مبینہ فراڈ، جعلی داخلہ دستاویزات اور 21 لاکھ روپے کی ادائیگی سے متعلق انکشافات کیے

اسلام آباد میں سڑک کنارے طالبہ کی پھندا لگی لاش ملنے کے معاملے میں افسوسناک انکشافات سامنے آگئے۔ اہلخانہ کے مطابق جاں بحق طالبہ لائبہ اعجاز نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس کیا تھا اور وہ مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھیں۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے لیے 70 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔ طالبہ لائبہ اعجاز کے والد موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ اہلخانہ کے مطابق والد نے پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے ادا کیے، جبکہ باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے لائبہ کی والدہ کے زیورات بینک میں رکھوائے گئے۔

اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے جب یونیورسٹی میں داخلے کے لیے فراہم کیے گئے دستاویزات کی تصدیق کروائی تو وہ جعلی نکلے۔ لائبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام میں درخواست کی کہ ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ واقعے سے متعلق مزید حقائق کی تصدیق متعلقہ حکام کی تحقیقات سے ہی ہو سکے گی۔

اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں اسلامی یونیورسٹی کے طالب علم کی مبینہ خودکشی کے واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کو پولیس ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے، تاہم والدین کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے لیے ابھی تک کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ورثا کی درخواست موصول ہونے پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔

لائبہ کیس میں اہم انکشافات، فراڈ میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کا اعلان

اسلام آباد میں لائبہ خودکشی کیس میں اہم حقائق سامنے آگئے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد بخاری کے مطابق لائبہ سے رقم لینے والا شخص خود کو اعلیٰ عدلیہ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لائبہ کے والدین سے ملاقات کرکے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ واقعے سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے بعد تحریری درخواست بھی وصول کر لی گئی ہے۔ شہزاد بخاری کے مطابق مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کے خلاف این سی آئی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی اور کیس کو ٹیسٹ کیس بنایا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button