لائبہ اعجاز کیس میں ایف آئی اے کا مقدمہ درج، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے لائبہ اعجاز کیس انکوائری کے بعد دو نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، حکام کے مطابق 93 لاکھ روپے وصول کرنے اور جعلی دستاویزات استعمال کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے لائبہ اعجاز کیس میں دو نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق انکوائری نمبر RE-837/2026 مکمل ہونے کے بعد محمد نعمان ولد بدی الزمان اور فاطمہ سرور کے خلاف مقدمہ نمبر FIR-AHTC-ICT-977/26 مورخہ 10 اکتوبر 2026 درج کیا گیا۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419، 420 اور 109 کے علاوہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 شامل کی گئی ہیں۔

ادارے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں الزام سامنے آیا ہے کہ دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے شکایت کنندہ امجد الرحمٰن کی بھانجی لائبہ اعجاز کو امریکہ کا ویزا دلوانے اور اسکالرشپ فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس کی ادائیگی کی رسیدیں تیار کرکے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا۔
ایف آئی اے کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مجموعی رقم میں سے 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادا کیے گئے، جبکہ باقی رقم نقد وصول کی گئی۔ ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مبینہ مالی دھوکہ دہی اور اس کے نتیجے میں پہنچنے والی ذہنی اذیت کے دوران لائبہ اعجاز انتقال کر گئیں۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق ڈائریکٹر کی نگرانی میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر زبیر کمال کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ تفتیش کے دوران مقدمے میں کسی دوسرے شخص کے ممکنہ کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون نے کہا ہے کہ لائبہ اعجاز کیس میں مبینہ طور پر ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ تاہم، مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی تعین قانونی کارروائی اور تفتیش کے بعد ہوگا۔
