عدالتیں و قانونی امور

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے ممبر زمان وٹو کی معافی مسترد کر دی، توہینِ عدالت کی کارروائی شروع

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے زمان وٹو کو سات روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، ریمارکس دیے کہ پہلے توہینِ عدالت کیس سنا جائے گا، مرکزی درخواست بعد میں سنی جائے گی۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرتے ہوئے ان کی جانب سے غیر مشروط معافی کی فوری استدعا مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے زمان وٹو کو سات روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل حسنین حیدر تھہیم اور سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو اپنے وکیل نذیر جواد کے ہمراہ پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت کے عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکم میں درج تھا کہ زمان وٹو دوسری عدالت میں پیش ہوئے، لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔ اس پر سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے مؤقف اختیار کیا کہ زمان وٹو نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں، بلکہ وہ دوسری عدالت میں اس لیے پیش ہوئے کہ وہاں کی کارروائی جلد مکمل ہو سکتی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کا حکم غلط ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اطلاع دیے بغیر دوسری عدالت میں پیش ہونا عدالتی احترام کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ 60 سال سروس مکمل کرنے کے باوجود کیا سی ڈی اے ممبر زمان وٹو کو عدالتی احترام کا احساس نہیں ہو سکا؟

سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے زمان وٹو کی جانب سے غیر مشروط معافی کی استدعا کی، تاہم چیف جسٹس نے فوری طور پر یہ استدعا مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر پراسیکیوٹر تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے توہینِ عدالت کا کیس سنا جائے گا، جبکہ مرکزی درخواست بعد میں سنی جائے گی۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم نے مؤقف اختیار کیا کہ زمان وٹو نے عدالت میں پیشی کے لیے بیماری کا بتایا تھا، جبکہ وہ دوسری عدالت میں چیئرمین سی ڈی اے کے ساتھ پروٹوکول میں موجود تھے۔

عدالت نے سی ڈی اے میں تعینات ریٹائرڈ افسر زمان وٹو کے خلاف توہینِ عدالت کے معاملے میں پراسیکیوٹر بھی مقرر کر رکھا ہے۔ عدالت نے انہیں سات روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button