مری روڈ کے قریب سرکاری اراضی واگزار، مالپور میں پانچ پلازوں کا قبضہ سی ڈی اے کے حوالے
اسلام آباد انتظامیہ، سی ڈی اے اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں موضع مالپور کے پانچ کمرشل پلازے خالی کرا کے قبضہ سی ڈی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق مری روڈ کے قریب 108 کنال سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم جاری

اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) انتظامیہ نے سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے موضع مالپور میں پانچ کمرشل پلازے پُرامن طور پر خالی کرا لیے۔ 23 اکتوبر 2026 کو کی گئی کارروائی کے بعد پلازوں کا قبضہ سی ڈی اے کے حوالے کر دیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق یہ آپریشن مری روڈ کے قریب سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے ختم کرانے کی مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 108 کنال اراضی واگزار کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مالپور میں کن املاک کی نشاندہی کی گئی؟
انتظامیہ کے سروے کے دوران دو پیٹرول پمپس، نو کمرشل پلازے، 25 مکانات اور دو گوداموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
ملکیتی دستاویزات کی جانچ
محکمہ مال کے ریکارڈ کی جانچ کے دوران مبینہ طور پر موضع کوٹ ہتھیال کے خسرہ نمبرز سے متعلق ملکیتی دستاویزات کو موضع مالپور میں سی ڈی اے کی اراضی پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال کرنے کے معاملات سامنے آئے۔
انتظامیہ کے خصوصی کیمپ میں دستاویزات کی تصدیق کے دوران بعض تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی۔ حکام کے مطابق مبینہ جعلی یا دھوکہ دہی پر مبنی لین دین میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آرز سمیت قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔
انتظامیہ نے یہ اطلاع بھی دی کہ زیرِ تنازع پلازوں میں سے ایک کی فروخت پانچ ماہ قبل پانچ کروڑ روپے میں کی گئی تھی۔
سی ڈی اے کا غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ سی ڈی اے ڈاکٹر انعم فاطمہ نے کہا کہ سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر قابض عمارتوں اور کاروباری مراکز کے خلاف یکساں کارروائی جاری رہے گی۔
ان کے مطابق جن معاملات میں عدالتی حکمِ امتناع موجود ہیں، ان میں عدالتی ہدایات کا احترام کرتے ہوئے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔
اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے نے کہا ہے کہ سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم محکمہ مال کے مصدقہ ریکارڈ، قانونی کارروائی اور قانون کے یکساں اطلاق کے تحت جاری رہے گی۔



