سیاسی اختلافات کے باوجود مولانا فضل الرحمان سے رابطے اور اتحاد کی کوششیں جاری ہیں: بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر خان نے ملک میں بڑھتے سیاسی تناؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی انتشار سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوتا ہے، انتخابی اصلاحات کے لیے تمام سیاسی فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی اپنی اپنی سیاست ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی اتحاد اور رابطوں کی کوششیں جاری ہیں۔
اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سیاسی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے علیمہ باجی اور نورین بی بی کی اسپتال میں موجودگی اور بیٹی کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کشیدگی کو مزید نہیں بڑھانا چاہیے۔
ملک میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش
بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ملک میں اس وقت تناؤ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اندرونی انتشار سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو بحران اور انتشار سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
شیری مزاری کے گھر چھاپے کی مذمت
انہوں نے شیری مزاری کے گھر رات گئے ہونے والے چھاپے اور گھر میں سامان توڑنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک رکن قومی اسمبلی کے گھر اس طرح کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔ ان کے بقول ایسی کارروائی دہشت گردی یا غیر قانونی اقدام کے زمرے میں آتی ہے۔
جمہوریت اور سیاسی ریڈ لائن
بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ وہ اپنی سیاسی ریڈ لائن عبور نہیں کریں گے اور پاکستان اور جمہوریت ان کے لیے اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری اقدار اور اصولوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
انتخابی اصلاحات کے لیے مذاکرات پر زور
انتخابات اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی فریقین کو مل بیٹھ کر متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ صرف مخصوص یا محدود ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ وسیع تر مشاورت ضروری ہے۔



