پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ)

بلیو پاسپورٹ کی تعداد 75 ہزار سے کم کر کے 49 ہزار کر دی گئی ہے، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں نیلے پاسپورٹ کے اجرا، مدت اور قواعد پر بحث ہوئی۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں 49 ہزار پاسپورٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ کے اجرا اور اس کی مدت سے متعلق قواعد پر بحث ہوئی، جبکہ کمیٹی نے وزارت داخلہ اور محکمہ پاسپورٹ سے تفصیلات طلب کر لیں۔

پاسپورٹ کی مدت اور قواعد پر سوالات

اجلاس میں رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر پاسپورٹ ایکٹ کے تحت پاسپورٹ پانچ سے دس سال کے لیے جاری ہوتا ہے تو قواعد کے ذریعے ایک سے دو سال کی مدت کیسے مقرر کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہو تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم قواعد کے ذریعے قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ پر کنٹرول ضروری ہے اور اس حوالے سے اعداد و شمار کمیٹی کے سامنے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیلے پاسپورٹ کی تعداد میں کمی کی گئی ہے اور وہ اس معاملے کا حل پیش کرنا چاہتے ہیں۔

نیلے پاسپورٹس کی تعداد میں کمی

ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے کمیٹی کو بتایا کہ نیلے پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کرکے 49 ہزار کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری سہولت کی کیٹیگری میں شامل ہونے کے لیے نیلے پاسپورٹس کی تعداد کم کرنا ضروری تھا۔

رکن کمیٹی نبیل گبول نے بیوروکریسی اور دیگر متعلقہ طبقات کو نیلے پاسپورٹ جاری کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے اور تجویز دی کہ مسلسل تین سال تک رکن پارلیمنٹ رہنے والوں کو تاحیات نیلا پاسپورٹ دینے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔

رکن کمیٹی نصیر عباس نے تجویز دی کہ رکن قومی اسمبلی کا عہدہ ختم ہونے پر نیلا پاسپورٹ بھی ختم کر دیا جائے اور اسی نوعیت کا معیار بیوروکریسی کے لیے بھی مقرر کیا جائے۔

آئندہ اجلاس میں تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت

قائمہ کمیٹی داخلہ نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں بتایا جائے کہ 49 ہزار نیلے پاسپورٹس میں سے کتنے ارکان پارلیمنٹ اور کتنے بیوروکریٹس کے پاس ہیں۔ طلال چوہدری نے کمیٹی سے معاملے کا حل پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کی۔

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button