ہر تین میں سے تقریباً ایک بالغ پاکستانی ذہنی امراض کا شکار، تشویشناک اعدادوشمار سامنے آگئے
پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ، فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں صرف 1,050 رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات دستیاب ہیں جبکہ تقریباً 95 فیصد متاثرہ افراد مناسب علاج اور سہولیات سے محروم ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا افراد کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایسے افراد کی تعداد تقریباً 3 لاکھ بتائی گئی ہے۔ وزارتِ صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ذہنی صحت کی سہولیات اور ماہرین کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان میں ذہنی امراض کی شرح
پاکستان کی پہلی قومی سطح کی نفسیاتی صحت سے متعلق تحقیق کے مطابق تقریباً 32.3 فیصد بالغ افراد کسی نہ کسی ذہنی یا رویّے سے متعلق عارضے کا شکار ہیں۔ تحقیق میں 17,773 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج ستمبر 2026 میں شائع ہوئے۔
وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال درکار ہے۔
ماہرینِ نفسیات کی کمی
قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں تقریباً 1,050 رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات موجود ہیں، جبکہ آبادی کے تناسب سے ماہرین کی دستیابی ناکافی ہے۔ اس صورتحال کے باعث ذہنی صحت کے مسائل سے متاثرہ افراد کو علاج اور مشاورت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
95 فیصد افراد مناسب علاج سے محروم
عالمی ادارہ صحت کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی تقریباً 5 فیصد آبادی کو حال ہے، جس کے نتیجے میں علاج سے محرومی کی شرح تقریباً 95 فیصد بنتی ہے۔
مہنگائی اور معاشی دباؤ کے اثرات
مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کو ذہنی صحت کے مسائل سے جڑے اہم سماجی عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ قومی سطح کی تحقیق میں بھی کم آمدنی اور بے روزگاری سمیت مختلف سماجی و معاشی عوامل کا ذہنی صحت کے مسائل سے تعلق سامنے آیا ہے۔
قومی ذہنی صحت پالیسی بھی متعارف
حکومت پاکستان نے یکم اکتوبر 2026 کو نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 متعارف کرائی، جس کا مقصد ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا، بنیادی صحت کے مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات شامل کرنا اور بچوں و نوجوانوں کے لیے معاون پروگرام شروع کرنا ہے

