اسلام آباد کرکٹ اسٹیڈیم منصوبہ چیلنج، ہائیکورٹ کے وفاق، سی ڈی اے اور پی سی بی کو نوٹس
مارگلہ نیشنل پارک، جنگلی حیات اور ماحولیات متاثر ہونے کا خدشہ، 175 ایکڑ پر اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر فریقین سے جواب طلب۔
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم اور اسپورٹس ایرینا کی تعمیر کے منصوبے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر وفاقی حکومت، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل بینچ نے حمید نواز اور محمد خرم جاوید کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت، سی ڈی اے، پی سی بی، چیف کمشنر اسلام آباد، وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور چیئرپرسن اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو نوٹس جاری کیے۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے اسلام آباد کے زون تھری میں سیکٹر ڈی 12، بشمول گاؤں شاہ اللہ دتہ، کی زمین استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے منصوبے کے ماحولیاتی اثرات، جنگلی حیات اور قدرتی مناظر کے تحفظ سے متعلق خدشات اٹھائے ہیں۔
درخواست گزاروں کے مطابق پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے 82 وائلڈ لائف سینکچوریز مقرر ہیں، جبکہ ملک کے 10 نیشنل پارکس میں 9 لاکھ 54 ہزار 246 ہیکٹر رقبے کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جن میں مارگلہ نیشنل پارک بھی شامل ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ سیکٹر ڈی 12 میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے مختص زمین کے منصوبے کو بعد ازاں وسعت دے کر اولمپک ولیج کی شکل دے دی گئی، جس میں فٹ بال گراؤنڈ، ہاکی اسٹیڈیم اور دیگر کھیلوں کے میدان بھی شامل کیے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق توسیع شدہ منصوبے کے لیے تقریباً 175 ایکڑ زمین استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
اپیل کنندگان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منصوبے سے قدرتی وسائل، سرسبز علاقے، حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
انٹراکورٹ اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے 22 ستمبر 2026 کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے زمین مختص کرنے کے فیصلے، زمین کے حصول کے لیے الیکٹرانک بولی (ای بِڈنگ)، خریداری کے عمل اور متعلقہ انتظامات کو بھی غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کرنے کی استدعا کی ہے۔
