عدالتیں و قانونی امور

پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس، عادل بازئی اور داوڑ کنڈی سمیت 4 افراد کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

عادل بازئی اور داوڑ کنڈی سمیت چار افراد کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت، ن لیگی کارکن کی نظر بندی کا معاملہ بھی سامنے آگیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے معاملے پر عادل بازئی، داوڑ کنڈی سمیت چار افراد کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی اور کہا کہ عدالت درخواستوں پر حکم نامہ جاری کرے گی۔

سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ نظر بند کیے گئے افراد میں مسلم لیگ (ن) کا کارکن صداقت اللہ بھی شامل ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے عدالت کو بتایا کہ نقصِ امن کا خدشہ پیدا کرنے والوں کے لیے قانون سب کے لیے برابر ہے اور ن لیگی کارکن کی نظر بندی میں بھی توسیع کی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق ایم پی او آرڈر میں مزید 15 روز کی توسیع کی گئی ہے، اس لیے ان کے خیال میں درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے درخواست گزاروں کے وکلا کو درخواستیں واپس لینے یا عدالت سے نمٹانے کی استدعا کی۔

اس موقع پر وکیل بابر اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں دوبارہ اسی ڈپٹی کمشنر کے پاس جانے کا کہا جا رہا ہے جس نے ایم پی او کا حکم جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو اراکین اسمبلی کا معاملہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

سماعت کے دوران بابر اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے دونوں سینئر وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس انداز میں گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔

ن لیگی کارکن کے وکیل عبدالحلیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل عادل بازئی کے دوست تھے اور ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے، تاہم انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔

عدالت نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ درخواستوں پر حکم جاری کیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button