وفاقی دارالحکومت کے امور

سرکاری گھروں کے کرایوں کی عدم کٹوتی سے قومی خزانے کو 4 ارب روپے کا نقصان، 8 ہزار 500 سے زائد ملازمین نادہندہ قرار

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 2,669 سرکاری ملازمین ہاؤس رینٹ کے نادہندہ ہیں، گریڈ 20، 21 اور 22 کے 100 سے زائد افسران بھی فہرست میں شامل ہیں۔

اسلام آباد: سرکاری گھروں کے کرایوں کی عدم کٹوتی کے باعث قومی خزانے کو 4 ارب روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ 8 ہزار 500 سے زائد سرکاری ملازمین ہاؤس رینٹ کے نادہندہ قرار دیے گئے ہیں۔

صحافی زاہد گشکوری کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی معلومات کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ نادہندگان میں 2 ہزار سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ گریڈ 20، 21 اور 22 کے 100 سے زائد افسران، ایک صوبے کے چیف سیکریٹری اور تین وفاقی سیکریٹریز کے بھی ہاؤس رینٹ ادا نہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، حالانکہ ان کے پاس سرکاری رہائش گاہیں موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر وار اعداد و شمار میں کراچی کے 5,317، اسلام آباد کے 2,669، لاہور کے 404، پشاور کے 57 اور کوئٹہ کے 26 سرکاری ملازمین کو ہاؤس رینٹ کا نادہندہ بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس ملازمین کے لیے 28,491 سرکاری رہائش گاہیں دستیاب ہیں، جبکہ 8,667 سرکاری ملازمین کو کرایے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آفس نے نادہندگان کو نوٹس جاری کیے ہیں اور وزارتِ ہاؤسنگ و اسٹیٹ آفس کی کارروائی کے دوران پہلے دو ہفتوں میں ہاؤس رینٹ کے نادہندگان سے 20 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے گئے ہیں۔

ان اعداد و شمار اور الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button