مولانا فضل الرحمان کی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید، آرمی چیف سے شکایت کرنے کا اعلان
پشاور میں خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنے خلاف مبینہ پروپیگنڈا مہم پر تنقید کی اور آرمی چیف سے ملاقات کی صورت میں شکایت سامنے رکھنے کا اعلان کیا۔

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف مبینہ پروپیگنڈا مہم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی ناک کے نیچے ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایک حافظِ قرآن کمانڈر سے اس نوعیت کے طرزِ عمل اور اخلاقی گراوٹ کی توقع نہ ہونے کا اظہار کیا۔
آرمی چیف سے براہِ راست شکوے کا اعلان
پشاور میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف مبینہ مہم چلانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایک بار پھر ’’تنخواہ دار اور سرخ پاؤڈر بریگیڈ‘‘ سے متعلق اپنا مؤقف واضح کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کے خلاف مبینہ طور پر غلیظ پروپیگنڈا مہم کون چلا رہا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ آرمی چیف کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے اور ان کے سامنے ان کے خلاف اس نوعیت کی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر انہیں کبھی آرمی چیف سے آمنے سامنے ملاقات کا موقع ملا تو وہ براہِ راست اپنا شکوہ ان کے سامنے رکھیں گے۔ ان کے بقول، انہیں ایک حافظِ قرآن کمانڈر سے اس قدر اخلاقی پستی کی توقع نہیں تھی۔
پروپیگنڈا مہم کے پیچھے کون ہے؟
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے ذریعے ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرائی جا رہی ہے، وہ ان کی اپنی زبان نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ زبان کہاں سے آ رہی ہے اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں اس معاملے پر کھل کر شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرزِ عمل کو آرمی چیف کے سامنے بھی اٹھائیں گے۔



