اسلام آباد ہائی کورٹ

سید پور ویلج کیس – ہائیکورٹ نے 10 نومبر کو حتمی دلائل طلب کر لیے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سید پور ویلج آپریشن اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں 127 درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو 10 نومبر کو حتمی دلائل دینے کی ہدایت کر دی، عدالت نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کارروائی پر بھی اہم ریمارکس دیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سید پور ویلج میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے آپریشن اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کرنے سے متعلق کیس میں فریقین کے وکلا سے 10 نومبر کو حتمی دلائل طلب کر لیے۔

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے 127 درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سیکریٹری داخلہ احمد رضا سرور بھی عدالت میں موجود رہے اور سماعت کی کارروائی مانیٹر کرتے رہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انعم فاطمہ، سی ڈی اے کے وکیل شہریار طارق جبکہ متاثرین کی جانب سے وکیل راجہ رضوان عباسی، قیصر امام اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتی احکامات پر عمل درآمد لازمی ہے، جسٹس راجہ انعام

سماعت کے دوران جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایک معاملہ ختم ہو چکا ہے اور اسے پچاس سال بعد دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ 2008 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے، آئندہ سماعت پر اسی فیصلے کی روشنی میں دلائل دیے جائیں۔

جج نے استفسار کیا کہ پاکستان اور بھارت کی ایسی عدالتی نظیریں پیش کی جائیں جہاں اس نوعیت کا معاملہ پہلے سامنے آیا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد لازمی ہے، یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ قانون ہے۔

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم کے بغیر کوئی کارروائی ہوئی تو اس کے نتائج ذمہ داران کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے اور کیس کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

قانون کے بغیر بلڈوزر چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کہا کہ بغیر قانونی طریقہ کار کے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھانا یا بلڈوزر چلانا قابل قبول نہیں۔ اگر کوئی افغان شہری کسی دوسرے شخص کی جگہ پر رہ رہا تھا تو اس صورت میں اصل مالک مکان کو مسئلہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمین کے ایوارڈ اور ملکیت کے معاملات میں بھی مکمل قانونی وضاحت ضروری ہے۔ کسی جانور کو بھی اس کی جگہ سے منتقل کیا جائے تو اسے نئی جگہ پر خود کو ڈھالنے میں وقت لگتا ہے، انسانوں کے معاملات میں بھی قانونی تقاضوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جج نے مزید کہا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اصل حق داروں کے حقوق کے حوالے سے دلائل دیے جائیں۔ معاملہ سول کورٹ کو بھیجا گیا تو اس کے حل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

سی ڈی اے کا مؤقف: الاٹ شدہ پلاٹوں کی تفصیلات موجود ہیں

سی ڈی اے کے وکیل شہریار طارق نے عدالت کو بتایا کہ متاثرین کو الاٹ کیے گئے پلاٹوں کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور جن افراد کو پہلے پلاٹ مل چکے ہیں، ان کی فہرست بھی دستیاب ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک شخص نے مبینہ طور پر پین سے دو نام لکھ کر ڈائریکٹر اسپورٹس کی مہر لگائی اور اس بنیاد پر حکم امتناع حاصل کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سید پور کے معاملے میں سی ڈی اے نے عدالت کو تمام تفصیلات فراہم کیں، عدالتی احکامات پر عمل کیا اور ہر نوٹس کا جواب دیا۔

متاثرین کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے دورانِ سماعت بری امام میں چھتیں گرنے کے بعد خواتین کو کھلے آسمان تلے چولہے جلانے کی صورتحال سے بھی عدالت کو آگاہ کیا۔

10 نومبر کو حتمی قانونی دلائل ہوں گے

عدالت نے فریقین کے وکلا کو ہدایت کی کہ 10 نومبر کو مکمل تیاری کے ساتھ قانونی نکات پر حتمی دلائل دیں۔ جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر تکنیکی نوعیت کی باتیں نہیں سنی جائیں گی اور بتایا کہ وہ 11 نومبر کے بعد دستیاب نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں عدالت نے حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button