اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کیس، زمان وٹو کی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد
عدالت میں غلط بیانی اور عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق توہین عدالت کیس میں اہم پیشرفت، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو پر آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے زمان وٹو کی غیر مشروط معافی کی استدعا فوری طور پر مسترد کردی۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم جبکہ ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کی جانب سے وکلا کاشف ملک اور نذیر جواد عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس کے سخت ریمارکس
دوران سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالتوں کی عزت اور وقار کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں یا حکومت جو کچھ کہے گی عدالت اسے درست قرار دے دے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب کیس ان کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر تھا تو زمان وٹو کو عدالت میں موجود رہنا چاہیے تھا۔ عدالت نے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا، لیکن وہ دوسری عدالت میں پیش ہوکر واپس چلے گئے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مزید کہا کہ اگر انہیں وقت درکار تھا تو پہلے عدالت میں آکر مہلت طلب کرنی چاہیے تھی۔ آپ کا رویہ عدالتی حکم کو بلڈوز کر رہا ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ انہیں کسی کے ساتھ ذاتی رنجش یا کسی کے خلاف انتقام نہیں، تاہم عدالتی احکامات اور عدالت کے وقار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
زمان وٹو اور وکلا کی غیر مشروط معافی کی استدعا
دوران سماعت ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کے وکیل کاشف ملک نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو درست قرار دینے یا اس کے خلاف کوئی جواز پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔
زمان وٹو نے بھی عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کی عزت کرتے ہیں اور عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
تاہم چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اب معافی بعد میں دیکھی جائے گی، یہ سیدھی سیدھی توہین عدالت ہے۔
12 نومبر کو فرد جرم عائد ہوگی
کیس میں تعینات پراسیکیوٹر عدنان کو بھی روسٹرم پر طلب کیا گیا۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ جواب میں معافی نہیں مانگی گئی اور ایسے کیس میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے کے بعد فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے زمان وٹو کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور پراسیکیوٹر عدنان کو بھی تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کے خلاف توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی، جس روز ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔



