پمز، پولی کلینک و سی ڈی اے ہسپتال

نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد پمز ایمرجنسی وارڈ کی حالت بھی زیرِ بحث آگئی

سفوان عبداللہ کی جانب سے اسلام آباد ٹریبیون کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر میں ایمرجنسی وارڈ کے فرش پر داغ دھبے، زنگ آلود بیڈز، خستہ حال ٹرالیاں اور داغ دار چادریں دکھائی دے رہی ہیں، 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد اسپتال میں مریضوں کی حفاظت اور سہولیات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی۔

اسلام آباد : پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایمرجنسی وارڈ کی حالت سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر نے اسپتال میں صفائی، طبی سامان کی دیکھ بھال اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سفوان عبداللہ نے یہ تصاویر اسلام آباد ٹریبیون کے ساتھ شیئر کی ہیں، جن میں ایمرجنسی وارڈ کے فرش پر داغ دھبے اور خون جیسے دکھائی دینے والے نشانات نظر آتے ہیں۔ تصاویر میں مریضوں کے بیڈز پر موجود چادروں پر بھی سرخ اور بھورے رنگ کے داغ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کئی بیڈز اور ٹرالیوں کے دھاتی حصے زنگ آلود اور خستہ حال دکھائی دے رہے ہیں۔

تصاویر میں وارڈ کی دیواروں کی اکھڑی ہوئی سطح، گندے پینلز اور پرانے سامان کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض تصاویر میں طبی استعمال کی اشیا اور ڈبے کھلی شیلفوں پر کچرے کے ڈبوں کے قریب رکھے دکھائی دیتے ہیں۔

ان مناظر نے ایمرجنسی وارڈ میں صفائی کے معمولات، مریضوں کے زیرِ استعمال بیڈز اور ٹرالیوں کی دیکھ بھال، چادروں کی تبدیلی اور طبی سامان کو مناسب انداز میں رکھنے کے انتظامات سے متعلق تشویش پیدا کی ہے۔ تاہم، تصاویر میں نظر آنے والے داغوں کی نوعیت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پمز وفاقی دارالحکومت کے اہم سرکاری اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اسلام آباد اور گردونواح سے بڑی تعداد میں مریض علاج اور ہنگامی طبی امداد کے لیے پہنچتے ہیں۔ ایسے میں ایمرجنسی وارڈ میں صفائی برقرار رکھنا، مریضوں کو صاف چادریں فراہم کرنا، بیڈز اور ٹرالیوں کو قابلِ استعمال حالت میں رکھنا اور طبی سامان کو مناسب طریقے سے محفوظ کرنا بنیادی انتظامی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 26 اگست 2026 کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آتش زدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس سانحے کے بعد اسپتال کے حفاظتی انتظامات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور انتظامی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ میں نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جبکہ آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔ اس واقعے نے اسپتال میں مریضوں کی حفاظت اور طبی سہولیات کے معیار سے متعلق بحث کو مزید اہمیت دے دی تھی۔

نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر توجہ مرکوز رہی، تاہم ایمرجنسی وارڈ سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر نے صفائی اور روزمرہ دیکھ بھال کے معاملات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ایسے ماحول میں علاج کی سہولت میسر ہو جہاں صفائی کے مناسب معیارات برقرار رکھے جائیں اور طبی سامان درست حالت میں موجود ہو۔

اس تناظر میں سوالات اٹھتے ہیں کہ ایمرجنسی وارڈ میں صفائی کے نظام کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے، بیڈز اور ٹرالیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے کیا طریقۂ کار موجود ہے، مریضوں کی چادریں کتنی باقاعدگی سے تبدیل کی جاتی ہیں اور طبی سامان کو محفوظ رکھنے کے لیے کون سے انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان تصاویر پر مؤقف اس رپورٹ کی تیاری تک موصول نہیں ہو سکا۔ انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا.

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button