وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت: تمام پیداواری شعبوں میں ٹیکس نگرانی کا نظام 31 دسمبر تک فعال کیا جائے
شہباز شریف کی سیلز ٹیکس کے لیے کیمروں کے ذریعے پیداوار کی نگرانی مکمل کرنے کی ہدایت، گزشتہ تین سال میں حکومتی اقدامات کے تحت 1.3 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس وصولی کا دعویٰ۔
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیداواری شعبے کے تمام متعلقہ سیکٹرز میں سیلز ٹیکس کے لیے کیمروں کے ذریعے پیداوار کی نگرانی کا نظام رواں سال 31 دسمبر تک مکمل فعال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے خودکار نگرانی کے نظام کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور ٹیکس وصولی کی مکمل استعداد حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے 12 اکتوبر 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیداواری شعبوں میں ٹیکس نگرانی کے نظام اور ملک کی ٹیکس استعداد کے مقابلے میں حقیقی وصولیوں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں رکھنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں، جبکہ رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کرنے والی صنعتوں کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
چینی، سیمنٹ اور دیگر شعبوں میں نگرانی کا نظام نصب
اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کا نظام مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق ٹیکسٹائل، پیکیجڈ پانی، پیکیجڈ جوس اور پیکیجڈ دودھ کے شعبوں میں نظام کی تنصیب جاری ہے، جبکہ ان کے لیے آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اسٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک، جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کے شعبوں کے لیے 30 اکتوبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق تمام متعلقہ شعبوں میں نگرانی کا نظام 31 دسمبر 2026 تک مکمل فعال کر دیا جائے گا۔
ٹیکسٹائل کمپنیوں کے رضاکارانہ اقدام کو سراہا گیا
اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بعض صنعتوں کی جانب سے نگرانی کے نظام کی تنصیب پر مزاحمت سامنے آئی، تاہم نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، جے کے اسپننگ ملز، صورتی انٹرپرائز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل اسپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں نے رضاکارانہ طور پر نظام نصب کیا۔
وزیراعظم نے ان صنعتوں کے اقدامات کو سراہا اور ہدایت کی کہ پیداوار کی نگرانی کے نظام کی مؤثریت جانچنے کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی دیگر شعبوں میں بھی آڈٹ کرے۔ انہوں نے سیمنٹ کے شعبے میں نگرانی کے نظام کی آڈٹ رپورٹ کو بھی سراہا۔
تین سال میں 1.3 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس وصولی
اجلاس میں وزیراعظم کو ٹیکس وصولی اور ملک کی ٹیکس استعداد کے درمیان فرق سے متعلق جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران حکومتی اقدامات اور انفورسمنٹ کے نتیجے میں 1.3 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جو ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی جانب سے ٹیکس استعداد کا تفصیلی جائزہ لینے اور جامع رپورٹ مرتب کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے ارکان میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔