سی ڈی اے

اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ منصوبے کا دورہ، 58 عمارتیں سیل، سی ڈی اے کی 25 کروڑ روپے سے زائد وصولی

چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی ترقیاتی منصوبے کی بروقت تکمیل اور تعمیراتی معیار برقرار رکھنے کی ہدایت، انفورسمنٹ آپریشن میں 377 تعمیرات کی نشاندہی، تقریباً 3 ارب روپے مزید واجب الادا۔

اسلام آباد: چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سہیل اشرف نے اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ منصوبے کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت اور معیار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو تعمیراتی کاموں کی رفتار تیز کرنے اور اعلیٰ معیار کے ساتھ منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

12 اکتوبر 2026 کو جاری سی ڈی اے کی پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے کو منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی سرگرمیوں اور آئندہ مراحل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے منظور شدہ ڈیزائن اور تکنیکی تفصیلات پر عمل درآمد، مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ، مؤثر کوالٹی کنٹرول اور ٹریفک مینجمنٹ یقینی بنانے پر زور دیا۔

سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ منصوبے کا مقصد سڑکوں کے رابطوں کو بہتر بنانا، ٹریفک کی روانی میں اضافہ کرنا، رش کم کرنا اور دارالحکومت کے روڈ نیٹ ورک کو مؤثر بنانا ہے۔

انفورسمنٹ آپریشن میں 58 عمارتیں سیل

پریس ریلیز کے مطابق اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ کے اطراف غیر قانونی تعمیرات، غیر مجاز تجارتی سرگرمیوں، اراضی کے غیر منظور شدہ استعمال اور بلڈنگ کنٹرول ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ یہ کارروائیاں سی ڈی اے کے متعلقہ شعبوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے کی جا رہی ہیں۔

سی ڈی اے کے مطابق مجموعی طور پر 377 تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 281 کمرشل تعمیرات شامل ہیں۔ اب تک 58 عمارتیں سیل کی جا چکی ہیں، جن میں 34 سوہان اقبال ٹاؤن جبکہ 24 کورنگ پل، کورنگ پولیس اسٹیشن اور گلبرگ گرینز کے علاقوں میں واقع ہیں۔

اس کے علاوہ سوہان سے کھنہ پل تک 124 تعمیرات کی نشاندہی کرکے انہیں مسمار کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ مسماری کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

25 کروڑ 5 لاکھ روپے سے زائد وصولی

سی ڈی اے کی بریفنگ کے مطابق انفورسمنٹ آپریشن کے دوران اب تک مجموعی طور پر 250,590,157 روپے، یعنی 25 کروڑ 5 لاکھ 90 ہزار 157 روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ یہ رقم اراضی کے استعمال کی تبدیلی کے چارجز، بغیر منظوری تعمیرات کے چارجز اور عمارتوں کی ڈی سیلنگ فیس کی مد میں وصول کی گئی۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مختلف کمرشل عمارتوں، پلازوں، ہسپتالوں، میرج ہالز اور دیگر املاک سے یہ ادائیگیاں موصول ہوئیں۔

تقریباً 3 ارب روپے مزید واجب الادا

سی ڈی اے کے مطابق متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت اراضی کے استعمال کی تبدیلی، غیر قانونی تعمیرات، سیٹ بیک، فلور ایریا ریشو (FAR) اور کورڈ ایریا سے متعلق خلاف ورزیوں کی مد میں تقریباً 3 ارب روپے مزید واجب الادا ہیں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی کہ بلڈنگ کنٹرول ضوابط، اراضی کے استعمال سے متعلق قواعد اور فائر سیفٹی کے تقاضوں پر سختی اور یکساں انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات اور غیر منظور شدہ سرگرمیوں کو اسلام آباد کی منصوبہ بند ترقی اور عوامی تحفظ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔

پریس ریلیز کے مطابق شہریوں اور مسافروں نے اسلام آباد میں سی ڈی اے کی ترقیاتی اور انفورسمنٹ کوششوں، سڑکوں کے نیٹ ورک میں بہتری، ٹریفک مینجمنٹ اور بلڈنگ قوانین پر عمل درآمد کے اقدامات کو سراہا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، تعمیراتی معیار برقرار رکھنے اور شہریوں کو بہتر عوامی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button