اسلام آباد ہائی کورٹ

ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتیاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈپٹی چیئرمین نیب احتشام قادر اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سہیل ناصر کی تعیناتیوں کو چیلنج کر دیا گیا۔ جسٹس عمیر مجید ملک نے ڈاکٹر جی ایم چوہدری کی درخواست پر نیب، وزارت قانون سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈپٹی چیئرمین نیب احتشام قادر اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سہیل ناصر کی تعیناتیوں کو چیلنج کر دیا گیا۔ جسٹس عمیر مجید ملک نے ڈاکٹر جی ایم چوہدری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب، وزارت قانون اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے دونوں عہدیداروں کو کام سے روکنے اور ان کی تعیناتیوں کا ریکارڈ طلب کرنے سے متعلق متفرق درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیے۔ درخواست گزار نے دونوں تقرریوں کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی ہے۔

تعیناتیوں میں شفافیت پر سوالات

درخواست گزار کے مطابق دونوں عہدوں پر تعیناتیاں بغیر اشتہار اور شفاف مسابقتی عمل کے کی گئیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیب آرڈیننس 1999ء کی متعلقہ دفعات 5، 6، 7 اور 8 کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور تقرریوں میں میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں کی مبینہ خلاف ورزی ہوئی۔

درخواست میں وفاق، نیب، وزیراعظم آفس، وزارت قانون، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایف آئی اے سمیت دیگر فریقین کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے دونوں تقرریاں کالعدم قرار دینے، سرکاری خزانے سے حاصل کردہ تنخواہیں، الاؤنسز اور دیگر مراعات واپس لینے اور متعلقہ حکام سے تقرریوں کے قانونی جواز کی وضاحت طلب کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔

عدالت میں دلچسپ مکالمہ

سماعت کے دوران جسٹس عمیر مجید ملک اور درخواست گزار کے وکیل جی ایم چوہدری کے درمیان مکالمہ ہوا۔ وکیل نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب سہیل ناصر اپنے نام کے ساتھ سابق جج لکھتے ہیں، حالانکہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج رہے ہیں۔

اس پر جسٹس عمیر مجید ملک نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے، ’’پھر تو آپ ہمارے بیج بھی اتار دیں، ہم بھی ابھی ایڈیشنل جج ہیں۔‘‘

جسٹس عمیر مجید ملک نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ ’’آپ ان تعیناتیوں کی انویسٹی گیشن کروانا چاہتے ہیں؟‘‘ وکیل نے جواب دیا کہ نیب کا پراسیکیوٹر کمرہ عدالت میں موجود ہے اور انہیں نوٹس موصول کروا دیے جائیں۔

اس پر جسٹس عمیر مجید ملک نے کہا کہ نیب کے علاوہ بھی دیگر فریقین ہیں اور انہیں نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب، وزارت قانون اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

Hussain Ahmad Ch

حسین احمد چوہدری اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ہیں، جو عدالتی، آئینی اور حکومتی امور کی رپورٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ اس وقت اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، جبکہ اس سے قبل 92 نیوز اور بول نیوز میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد سے میڈیا کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ، آئینی مقدمات، اہم عدالتی کارروائیوں اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن میں صدر، نائب صدر اور سیکریٹری سمیت مختلف اہم عہدوں پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جو دارالحکومت کی قانونی صحافت سے ان کی طویل وابستگی کا عکاس ہے۔ ان کی صحافت کا بنیادی محور عدالتی جواب دہی، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات ہیں۔ ان سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے: Hussain@islamabadtribune.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button