اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے پر تاحکم ثانی پابندی عائد، ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیشہ کیفے سے متعلق تمام درخواستیں نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ متعلقہ قواعد و ضوابط بننے تک وفاقی دارالحکومت میں ہر قسم کے شیشہ کیفے پر پابندی رہے گی، جبکہ پہلے سے جاری این او سیز بھی واپس تصور ہوں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں تمام شیشہ کیفے پر تاحکم ثانی پابندی برقرار رکھتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے 19 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفے سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا دیں۔
این او سی رکھنے والے کیفے بھی بند رہیں گے
عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ قواعد و ضوابط بننے تک اسلام آباد میں ہر قسم کے شیشہ کیفے پر پابندی رہے گی۔ جن کیفے کے پاس پہلے سے این او سی موجود ہیں، وہ بھی پابندی سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے اور پہلے سے جاری این او سیز واپس تصور ہوں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاء افسران کو شیشہ کیفے سے متعلق قواعد و ضوابط بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے مکمل کروانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے اور اس کی نقل تمام متعلقہ حکام کو فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔
شیشہ رولز 2023 تاحال حتمی شکل اختیار نہ کر سکے
تحریری فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود شیشہ رولز 2023 کو حتمی شکل نہیں دے سکی۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کی جانب سے مسودہ بار بار نظرثانی کے لیے وزارت کو واپس بھیجا جاتا رہا۔ عدالتی مہلت اور یقین دہانیوں کے باوجود متعلقہ قواعد مکمل نہ ہونے پر عدالت نے کارروائی کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ مناسب قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کو شیشہ نوشی جاری رکھنے کا لائسنس نہیں بنایا جا سکتا۔ قواعد بنائے بغیر قانون کے تحت ممنوع شیشہ کیفے کو این او سی جاری کرنے سے ان کا کاروبار قانونی نہیں ہو جاتا۔
شیشہ نوشی کے صحت پر مضر اثرات
فیصلے میں کہا گیا کہ شیشہ نوشی، خواہ ذائقہ دار ہو یا سادہ، نکوٹین، کاربن مونو آکسائیڈ اور کینسر کا باعث بننے والے زہریلے اجزاء سے وابستہ ہے۔ تمباکو کے دھوئیں سے شیشہ پینے والے کے علاوہ اردگرد موجود بچے اور کمزور افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس اور ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانی سے گزرنے کے باوجود شیشہ کا دھواں زہریلے اجزاء سے پاک نہیں ہوتا اور اس کے صحت پر مضر اثرات سائنسی شواہد سے ثابت ہیں۔ فیصلے میں کورونا وبا کے دوران مشترکہ ماؤتھ پیس کے استعمال کے باعث شیشہ پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
درخواست گزاروں اور سرکاری وکلا کے مؤقف
تحریری فیصلے کے مطابق 2022 میں شیشہ کیفے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا، جبکہ سپریم کورٹ بھی 2016 کے ازخود نوٹس کیس میں تمام صوبوں کو شیشہ کیفے سے متعلق ہدایات دے چکی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شیشہ کیفے ضلعی انتظامیہ کے این او سیز کی آڑ میں خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور درخواست دینے کے باوجود ان کے خلاف مؤثر انکوائری یا کارروائی نہیں کی گئی۔
کیفے اور ریسٹورنٹس کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ مجاز اتھارٹی کے اجازت ناموں اور این او سیز کے تحت کاروبار کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری وکلا کے مطابق جامع ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر شیشہ کا تجارتی استعمال صحت عامہ کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔
عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ، ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک، آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی کی عدالتی معاونت کو بھی سراہا۔


