این سی سی آئی اے

سابق ایس پی سٹی اسلام آباد شہزاد اکبر ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی تعینات

وزارت داخلہ کے 18 اکتوبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق شہزاد اکبر کو ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی کا اضافی چارج فوری طور پر دے دیا گیا ہے۔ یہ ذمہ داری تین ماہ یا مستقل افسر کی تعیناتی تک، جو بھی پہلے ہو، برقرار رہے گی۔

اسلام آباد: وزارت داخلہ و انسداد منشیات نے شہزاد اکبر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا اضافی چارج دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

18 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن نمبر 9/3/2026-NCCIA-0004 کے مطابق شہزاد اکبر کو یہ ذمہ داری فوری طور پر تین ماہ کے لیے یا مستقل افسر کی تعیناتی تک، جو بھی پہلے ہو، سونپی گئی ہے۔

شہزاد اکبر اس وقت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کراچی ایئرپورٹ، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ (JIAP)، پر ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن تعینات ہیں۔ ان کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان سے ہے اور وہ گریڈ 18 کے افسر ہیں۔

شہزاد اکبر اس سے قبل اسلام آباد پولیس میں ایس پی سٹی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے کیا گیا ہے۔ اس کی نقول متعلقہ حکام کو اطلاع اور ضروری کارروائی کے لیے ارسال کی گئی ہیں۔

شہزاد اکبر کی کراچی میں تعیناتی سے قبل محمد شعیب خان کو این سی سی آئی اے اسلام آباد کا ایڈیشنل ڈائریکٹر جبکہ عاطف امیر کو لاہور زون آپریشنز کا ایڈیشنل ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا۔ ان تینوں تقرریوں کے ذریعے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے افسران کو ادارے کے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے آپریشنز میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

گریڈ 18 کے پی ایس پی افسر اور اسلام آباد پولیس کے سابق ایس ایس پی آپریشنز محمد شعیب خان نے کہا ہے کہ ان کی ترجیحات میں عوامی شکایات پر فوری کارروائی، میرٹ پر مبنی تحقیقات اور ڈیجیٹل فرانزک ٹولز کا زیادہ مؤثر استعمال شامل ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ شکایات پر بلاوجہ تاخیر کے بغیر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دفتر کو شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔

عاطف امیر اس سے قبل لاہور کے سٹی اور کینٹ ڈویژن میں ایس پی آپریشنز کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ این سی سی آئی اے میں اپنی ذمہ داری کے دوران وہ مبینہ آن لائن فراڈ اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف ادارے کی کارروائیوں سے متعلق میڈیا بریفنگز دے چکے ہیں۔ لاہور میں پولیس آپریشنز کا ان کا تجربہ اب سائبر جرائم کی تحقیقات سے متعلق ادارے کے کام میں بھی شامل ہے۔

این سی سی آئی اے کی قیادت کی جانب سے تحقیقات کے معیار پر زور

سید علی ناصر رضوی، جو خود پولیس سروس آف پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام آباد پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں، نے ستمبر میں این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنی ترجیحات بیان کرتے ہوئے پیشہ ورانہ اور فرانزک شواہد پر مبنی تحقیقات، ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافے اور شہریوں کی شکایات پر مؤثر کارروائی پر زور دیا۔ انہوں نے قانونی تقاضوں کی پابندی، نجی معلومات کے تحفظ، شکایات پر بروقت کارروائی اور ادارے میں احتساب کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے۔

حالیہ تقرریاں ان ترجیحات سے مطابقت رکھتی ہیں، جن کے تحت بڑے شہروں میں ادارے کی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے تجربہ کار پولیس افسران کو آپریشنل قیادت کی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔ تاہم ادارے کی مؤثریت کا انحصار سائبر جرائم کی تحقیقات میں خصوصی مہارت، ڈیجیٹل فرانزک صلاحیتوں اور شہریوں کی شکایات پر یکساں اور منصفانہ کارروائی پر بھی ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق شہزاد اکبر کو محدود مدت کے لیے اضافی چارج دیا گیا ہے، یہ مستقل تعیناتی کا اعلان نہیں۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح ہے کہ وہ ایف آئی اے امیگریشن میں اپنی موجودہ ذمہ داری برقرار رکھیں گے۔

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button