مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر 7 سال بعد پھر تجاوزات کا نوٹس، سی ڈی اے کا سخت انتباہ
سی ڈی اے نے رہائش گاہ کے باہر قائم سیکیورٹی گارڈز کا کیبن اور جنریٹر ہٹانے جبکہ اندر تعمیر کیے گئے اضافی کچن کو بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 15 روز میں تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی ہے

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر مبینہ تجاوزات کے خلاف نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 روز میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے نے رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کیا ہے، جس میں مقررہ مدت کے اندر تجاوزات ختم نہ کرنے کی صورت میں اتھارٹی کی جانب سے کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کیبن اور جنریٹر ہٹانے کا حکم
نوٹس میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر قائم سیکیورٹی گارڈز کے کیبن کو ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رہائش گاہ کے باہر نصب جنریٹر کو بھی ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔
اضافی کچن کو بھی خلاف ورزی قرار
سی ڈی اے نے رہائش گاہ کے اندر تعمیر کیے گئے اضافی کچن کو بھی عمارت کے منظور شدہ قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نوٹس کے مطابق تمام نشاندہی شدہ تجاوزات 15 روز کے اندر ختم کی جائیں، بصورت دیگر سی ڈی اے خود کارروائی کرتے ہوئے تجاوزات ہٹائے گا۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے نے یہ نوٹس امان اللہ ولد محمد یونس کو عمارت کے مالک کے طور پر جاری کیا ہے۔
2019 میں بھی تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا
فراہم کردہ معلومات کے مطابق سی ڈی اے نے 18 مارچ 2019 کو بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس وقت ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی۔