اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کے اپنے اہلکار مبینہ جعلی مقدمے میں ملوث؟ محکمانہ کارروائی کا فیصلہ
پولیس حکام کے مطابق موبائل فرانزک، سی ڈی آر، میڈیکل اور ڈی این اے رپورٹس میں خاتون کے الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن سلمان ظفر کے احکامات پر خاتون، ایک مرد اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں مبینہ طور پر جھوٹا جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروانے کے معاملے میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے دوران موبائل فرانزک، کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر)، میڈیکل اور ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا، جن کی روشنی میں خاتون کی جانب سے عائد الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد خاتون اور ایک مرد کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کا فیصلہ
ایس ایس پی انویسٹیگیشن سلمان ظفر کے احکامات پر اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



