خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسترد، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اعلامیہ جاری
گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی امور انجام دیں گے، طارق محمود پاشا، نگار جوہر اور ثمر بلور سمیت 11 ارکان کونسل میں شامل
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اعلامیے کے مطابق اس حوالے سے تین گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایمرجنسی کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے اپنے اعلامیے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور عوامی مینڈیٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت کو غیر مؤثر بنانا وفاقی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پارٹی کے مطابق ایسے اقدامات سے سیاسی عدم استحکام، عوامی بے چینی اور وفاق و صوبے کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاسی اختلافات کا حل طاقت یا جبر کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقوں سے نکالا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ ہے تو بلوچستان کی صورتحال پر مختلف معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے۔
پارلیمانی پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ایمرجنسی کا مقصد امن کے بجائے پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔ تاہم پارٹی نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردی کی ہر شکل کی غیر مشروط مذمت کرتی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
انسداد دہشت گردی کے لیے مشاورت پر زور
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کی قرارداد اور امن جرگے کی سفارشات کو اہمیت دی جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے قومی یکجہتی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی گرفتاریوں کی مذمت
پارلیمانی پارٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو منتخب وزیراعلیٰ قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کی مذمت کی اور اسے عوامی مینڈیٹ سے متعلق سنگین معاملہ قرار دیا۔ پارٹی نے جنید اکبر خان کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں دیگر منتخب نمائندوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام غیر قانونی گرفتاریوں اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
پولیس کے کردار اور ایم پی او احکامات پر اعتراض
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا کے کردار اور پولیس کے اقدامات پر بھی تنقید کی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت کے دباؤ پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف بلاجواز گرفتاریاں کی گئیں اور مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے احکامات استعمال کیے گئے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پولیس کی ذمہ داری آئین کی پاسداری ہے، سیاسی مقاصد کی تکمیل نہیں۔ پارلیمانی پارٹی نے ایم پی او کے تحت جاری احکامات کے قانونی جائزے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور آئینی فورم سے رجوع کیا جائے گا۔ پارٹی نے آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔



