عدالتیں و قانونی امور

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے دہشت گردی کیس کی اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت اور وکلا کا بائیکاٹ

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی، وکلا نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مبینہ طور پر بیرئیر ہٹانے سے متعلق دہشت گردی کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا، جبکہ عدالت نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو صبح 11 بج کر 20 منٹ سے 11 بج کر 50 منٹ تک ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا گیا۔ اس دوران عدالت نے سماعت جاری رکھتے ہوئے درخواست پر حکم لکھوا دیا۔

وکیل زینب جنجوعہ نے اعتراض اٹھایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ویڈیو لنک پر عدم موجودگی میں ٹرائل کی کارروائی ہوئی، اس لیے ان کا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ بعد ازاں دونوں کو تقریباً 12 بجے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔

زینب جنجوعہ نے ہادی علی چٹھہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں کارروائی ہوئی اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست بھی ان کی ہدایت پر دائر کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب انہیں اپنے مؤکلین کی جانب سے مزید کوئی ہدایت نہیں، جس کے بعد وہ اور دیگر وکلا کمرہ عدالت سے چلے گئے۔ ویڈیو لنک پر اپنا اعتراض ریکارڈ کرانے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ بھی جیل ویڈیو لنک سے چلے گئے۔

وکیل زینب جنجوعہ نے ریاستی وکیل علی آزاد کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر بار کی علالت کے باعث علی آزاد ان کے پاس موجود ہیں، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کو سنے بغیر اور مہلت دیے بغیر دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کر کے نمٹا دی۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اس مرحلے پر دہشت گردی کی دفعات کے خلاف درخواست نہیں دیکھی جا سکتی اور وہ اپنے حکم پر نظرثانی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button