اسلام آباد میں ڈکیتی کی کالز میں 65 فیصد کمی ریکارڈاسلام آباد پولیس کا دعویٰ
اسلام آباد پولیس کے مطابق یکم جنوری سے 25 اکتوبر 2026 تک مجموعی کرائم کالز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2,062 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈکیتی، سنیچنگ، رابری اور گاڑیوں کی چوری سے متعلق کالز میں بھی کمی سامنے آئی۔

اسلام آباد: اسلام آباد پولیس کے مطابق شہر میں جرائم کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں مجموعی کرائم کالز میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یکم جنوری سے 25 اکتوبر 2026 تک مجموعی کرائم کالز کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6,506 کے مقابلے میں کم ہو کر 4,444 رہ گئی، جس سے کرائم کالز میں 2,062 کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی کے واقعات سے متعلق کالز میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 20 سے کم ہو کر 7 رہ گئی۔ سنیچنگ کی کالز 930 سے کم ہو کر 487 رہیں، جو 48 فیصد کمی ہے، جبکہ رابری کی کالز 1,369 سے کم ہو کر 961 ہو گئیں، جس میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق کار چوری کی کالز میں 64 فیصد کمی ہوئی اور تعداد 259 سے کم ہو کر 92 رہ گئی۔ موٹر سائیکل چوری کی کالز 2,666 سے کم ہو کر 1,810 رہیں، جن میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح گاڑیاں چھیننے کے واقعات کی کالز 7 سے کم ہو کر 4، جبکہ موٹر سائیکل چھیننے کی کالز 231 سے کم ہو کر 146 رہ گئیں۔
ترجمان کے مطابق دیگر گاڑیوں کی چوری سے متعلق کالز 22 سے کم ہو کر 20 رہیں، جبکہ قتل کے واقعات کی کالز میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور تعداد 31 سے کم ہو کر 28 ہو گئی۔ نقب زنی کی کالز بھی 971 سے کم ہو کر 889 رہ گئیں، جو 8 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق جرائم کی روک تھام کے لیے ٹارگٹڈ آپریشنز، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں اور مؤثر پٹرولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جرائم کے انسداد سمیت امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔



