پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ)

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کی قرارداد منظور، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی رہائی، خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کی بحالی، نئے انتخابات اور آئینی ترامیم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال سے متعلق قرارداد منظور کر لی، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی، خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کی بحالی اور ملک میں آزادانہ و شفاف انتخابات کرانے سمیت متعدد مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔

قرارداد کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی قیادت، فیصلوں اور وژن سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

عمران خان کی رہائی اور طبی سہولیات کا مطالبہ

قرارداد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس میں عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقاتیں اور رابطے بحال کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کے آزادانہ طبی معائنے اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔

قرارداد میں ایم پی او کے تحت گرفتار سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سمیت عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پارٹی نے دیگر گرفتار افراد کی رہائی اور لاپتہ ارکان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری اور آئین کے منافی قرار دیا۔ قرارداد میں ان اقدامات کے خاتمے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ قرارداد میں منتخب حکومت کے اختیارات غیر منتخب اداروں کو منتقل کرنے کی کوششوں اور غیر منتخب مشاورتی کونسل کو مسترد کیا گیا۔

نئے انتخابات اور آئینی ترامیم کی واپسی کا مطالبہ

قرارداد میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے عوامی مینڈیٹ کی بحالی یا ملک بھر میں نئے، آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور 26ویں و 27ویں آئینی ترامیم کی واپسی پر زور دیا گیا۔

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے، پُرامن احتجاج اور قانونی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف گرفتاریوں، چھاپوں اور مبینہ ہراسانی پر تشویش ظاہر کی۔

دہشت گردی، معاشی صورتحال اور پارٹی قیادت پر اعتماد

قرارداد میں دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرتے ہوئے امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔

پارلیمانی پارٹی نے مہنگائی، بے روزگاری اور عوام پر بڑھتے معاشی بوجھ پر بھی تشویش ظاہر کی اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

قرارداد میں عمران خان کی مقرر کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت، بشمول بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے، اندرونی اختلافات پارٹی فورمز پر حل کرنے اور پارلیمانی، سیاسی و قانونی محاذوں پر مربوط جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

Rana Ruman Muzaffar

رانا رومان مظفر یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب (UCP)، لاہور سے میڈیا اسٹڈیز میں فارغ التحصیل ہیں اور ایک تجربہ کار براڈکاسٹ صحافی ہیں۔ وہ ہم نیوز کے ساتھ بطور سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ان کی صحافتی رپورٹنگ کا محور سیاسی امور، پارلیمانی کارروائیاں اور پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ وہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کاروباری اور معاشی خبروں کی کوریج بھی کرتے ہیں اور اہم پالیسی فیصلوں اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹنگ فراہم کرتے ہیں۔ ان سے ای میل کے ذریعے ruman@islamabadtribune.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button