مذاکرات ناکام ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف کا پی ٹی آئی پر الزام، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری
وزیراعظم کے مطابق سیاسی کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات سے امیدیں وابستہ تھیں، تاہم لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست سے معاشی استحکام کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی ختم ہونے کی امید تھی، تاہم ان کے مطابق بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی۔ وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست سے ملک میں معاشی استحکام کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ حکومت نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی پیشکش بھی کی تھی۔
شہباز شریف کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس کے دوران معیشت میں استحکام لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب برآمدات، پیداوار اور دیگر معاشی شعبوں میں بہتری کے لیے مزید پیش رفت ضروری ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اور لانگ مارچ کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز منظور کی، جس کی بعدازاں صدرِ مملکت نے منظوری دے دی۔



