کشمیر میں ڈیوٹی سے انکار پر 5 اسلام آباد پولیس کانسٹیبلز ملازمت سے برطرف
مبینہ طور پر کشمیر میں ڈیوٹی کے لیے جانے سے انکار اور مقررہ ڈیوٹی پر رپورٹ نہ کرنے پر پانچوں اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی۔

اسلام آباد : تھانہ نون میں تعینات اسلام آباد پولیس کے پانچ اہلکاروں کو مقررہ ڈیوٹی پر رپورٹ نہ کرنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر بتایا جا رہا ہے کہ معاملہ کشمیر میں ڈیوٹی کے لیے جانے سے انکار سے متعلق ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کیپٹن (ر) قاضی علی رضا کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق کانسٹیبل محمد عثمان حیدر، محمد عثمان، محمد نومان، محمد حسنین اور نصیر عباس کو 7 اکتوبر 2026 کو پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں تفویض کردہ ڈیوٹی کے لیے رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

حکم نامے کے مطابق پانچوں اہلکار مقررہ مقام پر رپورٹ نہیں ہوئے اور پیشگی اجازت یا چھٹی حاصل کیے بغیر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے۔ محکمانہ کارروائی کے دوران ان کے طرزِ عمل کو قانونی احکامات کی نافرمانی، غفلت، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور سرکاری ذمہ داریوں سے عدم توجہی قرار دیا گیا۔
پنجاب پولیس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1975 کے Rule 6(2) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے پانچوں اہلکاروں کو سنگین پیشہ ورانہ بدعملی، غفلت اور نااہلی کا مرتکب قرار دیا گیا، جس کے بعد انہیں بڑی محکمانہ سزا "Dismissal from Service” دے دی گئی۔
دوسری جانب مبینہ طور پر بتایا جاتا ہے کہ اہلکاروں کو کشمیر میں ڈیوٹی کے لیے بھیجے جانے پر تحفظات تھے اور انہوں نے اس حوالے سے اپنے شکوے اور خدشات بھی ظاہر کیے تھے۔ اہلکاروں سے متعلق حلقوں کا کہنا ہے کہ حساس علاقوں میں ڈیوٹی کے لیے اضافی الاؤنس اور دیگر مراعات کا نظام ہونا چاہیے تاکہ اہلکار ایسی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر آمادہ ہوں۔



