سی ڈی اے

مارگلہ ویلی، کوٹ ہتھیال کا واحدخطرناک راستہ ، شہریوں کا سی ڈی اے سے بہتری کا مطالبہ

مارگلہ ویلی اور کوٹ ہتھیال کے درمیان واحد کچی گزرگاہ سے روزانہ سینکڑوں طلبہ، خواتین اور شہری آمدورفت کرتے ہیں، شہریوں نے محفوظ راستے کی فراہمی اور بائی پاس پر فلائی اوور کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد: مارگلہ ویلی سے کوٹ ہتھیال جانے والی کچی گزرگاہ مقامی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے جسے روزانہ سینکڑوں سکول کے بچے اور بچیاں تعلیم کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ مقامی افراد بھی اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے اسی گزرگاہ سے کوٹ ہتھیال آتے جاتے ہیں۔

مقامی شہریوں کے مطابق بچے صبح مارگلہ ویلی سے سکول جانے کے لیے اسی راستے سے گزرتے ہیں اور دوپہر یا شام کے وقت واپس اپنے گھروں کو آتے ہیں۔ اسی طرح کوٹ ہتھیال میں روزگار یا دیگر ضروری کاموں کے لیے جانے والے شہری بھی دن بھر کے کام کے بعد شام کو اسی راستے سے مارگلہ ویلی واپس پہنچتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گزرگاہ کی حالت انتہائی خراب ہے اور یہ علاقہ کافی سنسان بھی ہے۔ ان کے مطابق دن اور رات کے مختلف اوقات میں یہاں ایسے افراد بھی بیٹھے نظر آتے ہیں جو مبینہ طور پر منشیات کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے خصوصاً بچیوں اور خواتین کے لیے یہاں سے گزرنا غیر محفوظ محسوس ہوتا ہے۔

اس گزرگاہ کے اوپر بائی پاس موجود ہے، تاہم بائی پاس پر فلائی اوور نہ ہونے کے باعث شہریوں کے لیے کوئی محفوظ متبادل راستہ موجود نہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بائی پاس پر فلائی اوور تعمیر کر دیا جائے تو مارگلہ ویلی اور کوٹ ہتھیال کے درمیان آمدورفت زیادہ محفوظ اور آسان ہو سکتی ہے۔

شہریوں نے حکومت اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گزرگاہ کی حالت بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں یا بائی پاس پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے، تاکہ سکول جانے والے بچوں، خواتین اور دیگر شہریوں کو محفوظ آمدورفت کی سہولت مل سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button