چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ، 27 اکتوبر کو طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جی سکس میں رہائش پذیر پولیس اہلکاروں کے فلیٹس خالی کرانے کے معاملے پر عدالتی حکم امتناع کے باوجود کارروائی جاری رہنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کو 27 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے درخواست کو توہین عدالت کے کیس میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جی سکس میں رہائش پذیر پولیس اہلکاروں کے فلیٹس خالی کرانے کے معاملے پر چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سہیل اشرف کو 27 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے پولیس ملازمین کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالتی حکم امتناع کے باوجود فلیٹس خالی کرانے کی کارروائی جاری رہنے پر برہمی کا اظہار کیا اور رٹ پٹیشن کو توہین عدالت کے کیس میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے فلیٹس خالی کرانے سے روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کیا تھا، تاہم سی ڈی اے نے پولیس کی موجودگی میں کارروائی کی۔
سی ڈی اے کے وکیل شہریار طارق نے عدالت کو بتایا کہ حکم امتناع سے متعلق متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ بھی دیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت کا حکم غلط تھا تو متعلقہ حکام کو اس کی وجوہات عدالت میں پیش کرنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست دائر نہیں کی گئی اور استدعا میں بھی اس کا ذکر نہیں۔ اس پر جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ متاثرہ افراد گھروں سے باہر ہیں تو وہ درخواست کیسے دائر کریں۔
چیئرمین سی ڈی اے کی پیر کو طلبی کے معاملے پر وکیل نے پیر کے بجائے منگل کو سماعت رکھنے کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سہیل اشرف کو 27 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور سماعت ملتوی کر دی۔



