بچوں کی نازیبا ویڈیوز کے کیس میں 2 چینی باشندوں کو سزا دلوائی، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شعیب خان کا انکشاف
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب خان کے مطابق گرفتار ملزمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے 6 سے 14 سال کے بچوں کو نشانہ بناتے، انہیں پیسوں کا لالچ دے کر ویڈیوز بناتے اور مبینہ طور پر پاکستان سمیت دیگر ممالک میں فروخت کرتے تھے۔ حکام کے مطابق ایک بچے کے موبائل فون سے تقریباً 60 ویڈیوز برآمد ہوئیں۔

اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بچوں کی قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور ان کی خرید و فروخت میں مبینہ طور پر ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو نشانہ بناتے تھے۔
بچوں کو پیسوں کا لالچ دینے کا الزام
شعیب خان کے مطابق ملزمان پہلے بچوں سے دوستی کرتے اور انہیں پیسے دیتے تھے، بعد ازاں انہیں اپنے جال میں پھنسا کر ویڈیوز بناتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک بچے کے موبائل فون سے تقریباً 60 ویڈیوز ملی ہیں، جن میں 50 سے 60 بچوں کی ویڈیوز شامل تھیں۔
ویڈیوز کی خرید و فروخت کا انکشاف
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مطابق ملزمان نے پاکستان میں واٹس ایپ گروپس بھی بنا رکھے تھے، جہاں ان ویڈیوز کی خرید و فروخت کی جاتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان مبینہ طور پر یہ ویڈیوز بین الاقوامی سطح پر بھی فروخت کرتے تھے۔


