عدالتیں و قانونی امور

پولیس افسر کی ترقی کی اپیل مسترد؛ قائد اعظم کا 1948 کا خطاب سرکاری ملازمین کے لیے اصول قرار

جسٹس علی باقر نجفی نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جس میں سول سرونٹس کے لیے سیاسی دباؤ سے آزاد رہنے پر زور دیا گیا۔ "حکومتیں بدلتی ہیں مگر سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے"، وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر کی ترقی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قائد اعظم کے 1948 کے ارشادات کو سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی اصول قرار دے دیا۔

فیصلے کا پس منظر اور قائد اعظم کا وژن

وفاقی آئینی عدالت نے پولیس سروس کے افسر تنویر احمد طاہر کی گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی نہ پانے کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس تاریخی فیصلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کی اپریل 1948ء میں پشاور میں سول افسران سے کی گئی تاریخی تقریر کو ملازمین کے لیے بنیادی اصول بنا دیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سول سرونٹس کبھی بھی کسی سیاسی دباؤ، سیاسی جماعت یا سیاستدان کے اثر میں نہ آئیں کیونکہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو قائم رہتی ہے۔

نیب ریفرنسز اور ترقی کا قانونی تنازع
اپیل کنندہ تنویر احمد طاہر 1999ء میں سی ایس ایس کے ذریعے پولیس سروس آف پاکستان (PSP) میں شامل ہوئے تھے، جن کی ترقی نیب ریفرنسز اور سلیکشن بورڈ کے مطلوبہ نمبرز (70 تھریش ہولڈ) پورے نہ ہونے کے باعث مؤخر ہوئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پرو موشن رولز 2019ء کے تحت گریڈ 20 میں ترقی کے لیے کم از کم 70 حاصل کردہ نمبرز لازمی ہیں اور سلیکشن بورڈ کی جانب سے دیے گئے نمبرز کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ مزید برآں، عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم ترقی کو بطورِ حق کلیم نہیں کر سکتا بلکہ اسے قانون کے مطابق صرف غور کا حق حاصل ہوتا ہے۔
سرکاری ملازمین کے لیے دیانت داری، قانون کی پاسداری اور سیاسی دباؤ سے آزادی ہی بہترین لائحہ عمل ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button