سی ڈی اے کے خلاف 25 سال پرانا مقدمہ، چیئرمین کے وارنٹ گرفتاری کے بعد شوکاز نوٹس
اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے محمد رشید بنام چیئرمین سی ڈی اے کیس میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ درخواست گزار کے حق میں ڈگری سال 2000 میں منظور ہوئی تھی، جبکہ اس سے قبل چیئرمین کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں سی ڈی اے کے خلاف 25 سال پرانے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سول جج نصیر الدین کی عدالت نے محمد رشید بنام چیئرمین سی ڈی اے کیس میں چیئرمین سی ڈی اے کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت اس سے قبل چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی ہے۔
عدالت میں ڈگری پر عمل درآمد سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے حق میں مقدمے کی ڈگری سال 2000 میں منظور ہوئی تھی، جبکہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں درخواست گزار کے حق میں فیصلہ برقرار رہا۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ وہ متاثرینِ سی ڈی اے میں شامل ہے اور اتھارٹی کی جانب سے زمین حاصل کیے جانے کے باوجود بحالی اور آبادکاری کی پالیسی کے تحت اسے تاحال فائدہ نہیں دیا گیا۔ درخواست گزار نے عدالت میں ڈگری پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم بطور وکیل پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈگری پر مؤثر اور مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ڈگری پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کا حکم دیا۔


