خیبرپختونخوا میں حکومت بھی نہ رہی عدالتوں سے بھی ریلیف نہیں ملا، بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے قیادت اور دونوں ایوانوں کے قائدینِ حزبِ اختلاف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مذمت کی۔ اجلاس کی تجاویز متفقہ طور پر اپوزیشن لیڈرز کے سامنے رکھ دی گئی ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی متفقہ طور پر مذمت کرتے ہوئے ان کے جلد خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے گزشتہ رات طویل اجلاس منعقد کیا، جس میں مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعدد سفارشات پیش کی گئیں۔
پارلیمانی پارٹی کا قیادت پر اعتماد
بیرسٹر گوہر کے مطابق اجلاس میں شریک تمام اراکین نے متفقہ طور پر پارٹی قیادت اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں قائدینِ حزبِ اختلاف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو بھی سراہا اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے تمام اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے جلد از جلد خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔
پارلیمانی پارٹی مزید فعال کردار ادا کرے گی
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ حالات میں، جب ان کے بقول سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سے تاحال کوئی ریلیف نہیں ملا اور خیبر پختونخوا میں بھی ان کی حکومت نہیں رہی، پارلیمانی پارٹی مزید فعال کردار ادا کرے گی تاکہ پیدا ہونے والے سیاسی اور انتظامی خلا کو پُر کیا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق اجلاس میں سامنے آنے والی تمام تجاویز متفقہ طور پر دونوں ایوانوں کے قائدینِ حزبِ اختلاف کے سامنے رکھ دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز ان تجاویز کا اپنے نقطۂ نظر سے جائزہ لیں گے اور ان کی سفارشات پارٹی کے لیے حتمی ہوں گی۔



