احتجاج اور مظاہرے

ایمرجنسی صرف موجودہ علاقوں تک محدود نہیں رہے گی؟ مولانا فضل الرحمان کی نئی پیشگوئی

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں خدشہ ظاہر کیا کہ ایمرجنسی کا دائرہ کوہاٹ ڈویژن تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بندوبستی اضلاع کو اس معاملے میں شامل کرنے اور افغانستان کے ساتھ قانونی تجارت بند ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کوہاٹ ڈویژن کو بھی اس کے دائرے میں شامل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ دہشت گردی ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور کوہاٹ جیسے علاقوں کو اس معاملے میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔

بندوبستی اضلاع کو ایمرجنسی میں شامل کرنے پر سوالات

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کو ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز بنایا جا رہا ہے، تاہم بندوبستی اضلاع کو بھی اس معاملے میں شامل کرنے کی وجہ واضح ہونی چاہیے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایمرجنسی کا دائرہ مزید علاقوں تک بڑھایا جا سکتا ہے اور کوہاٹ ڈویژن بھی اس کی زد میں آ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2026 میں خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی سے متعلق آئینی اقدامات کی منظوری دی گئی تھی، جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت بھی شامل تھے۔ کوہاٹ اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ AAJ+1

افغانستان کے ساتھ تجارت اور اسمگلنگ پر تنقید

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی پالیسی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ قانونی تجارت کے راستے بند کر دیے گئے ہیں، لیکن اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے راستے اب بھی کھلے ہیں۔

انہوں نے قبائلی علاقوں کے ذخائر اور راستوں سے متعلق اقدامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں اس نوعیت کی پابندیاں اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ قابلِ غور ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے یہ بیانات خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کے دائرہ کار سے متعلق جاری سیاسی بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button