عدالتیں و قانونی امور

اسلام آباد ہائیکورٹ کا شیشہ کیفے کیس میں اظہارِ برہمی، آئی جی کی رپورٹ پیش، چیف کمشنر اور ڈی سی طلب

آئی جی اسلام آباد نے شیشہ کیفے اور منشیات کے خلاف کارروائیوں کا ریکارڈ جمع کرا دیا، چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بیانِ حلفی کے لیے طلب کر لیا۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں غیر قانونی شیشہ کیفے کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی شیشہ کیفے کیسے کام کر رہے ہیں؟ عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیش ہو کر بیانِ حلفی دیں کہ قواعد و ضوابط بننے تک کوئی غیر قانونی شیشہ کیفہ نہیں چلے گا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں قواعد و ضوابط کی منظوری تک شیشہ کیفے نہیں کھلنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عدالتی حکم کے ایک مخصوص پیراگراف کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا گیا کہ عدالت نے شیشہ کیفے کھولنے کی اجازت دے دی، حالانکہ ایسا نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق چلنے والے کاروبار کے حوالے سے بات کی تھی، جس کا غلط مطلب لیا گیا۔ ان کے مطابق نئی نسل کو شیشہ نوشی کی عادت پڑنے کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت نے ابھی تک شیشہ کیفے کو ریگولیٹ کرنے کے قواعد نہیں بنائے تو کیا غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت دے دی جائے؟

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شیشہ کیفے سے متعلق قواعد تیار کرکے حکومت کو بھجوا دیے گئے ہیں اور جلد منظوری متوقع ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ قواعد کی منظوری تک تمام شیشہ کیفے بند رکھنے کا حکم دیا جائے۔ چیف جسٹس نے عارضی طور پر شیشہ کیفے بند رکھنے اور قواعد بننے کے بعد معاملے کا جائزہ لینے کے امکان پر بھی بات کی۔

پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ نے شیشہ کیفے سے متعلق سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کا حکم عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کی گائیڈ لائنز کا بھی حوالہ دیا۔ درخواست گزار کے وکیل قیصر امام نے کہا کہ اس معاملے پر کئی سال سے عدالتی احکامات جاری ہو رہے ہیں اور اگر کسی عدالتی حکم کا غلط مطلب نکالا گیا تو اس کی وضاحت ضروری ہے۔

آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ: شیشہ کیفے کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات

دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس نے شیشہ کیفے اور منشیات کے خلاف کارروائیوں سے متعلق اپنا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا۔ پولیس نے درخواست گزار کی جانب سے عدم فعالیت اور غفلت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کارروائیوں کا ریکارڈ پیش کیا۔

پولیس جواب کے مطابق یکم جنوری سے 15 جولائی 2026 تک شیشہ نوشی سے متعلق خلاف ورزیوں پر 10 تھانوں میں 28 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 119 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 16 جولائی سے 7 ستمبر 2026 تک مزید 61 مقدمات درج کیے گئے۔

آئی جی اسلام آباد کے جواب کے مطابق عدالتی احکامات کے بعد 13 تھانوں کی حدود میں 163 ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں شیشہ کیفے اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 26 اپریل 2024 سے ’’نشہ اب نہیں‘‘ کے نام سے آگاہی مہم شروع کی گئی۔ تعلیمی اداروں، ہاسٹلز، پارکوں اور بس اسٹینڈز کے گرد انٹیلی جنس کی بنیاد پر گشت بڑھایا گیا ہے، جبکہ اسپیشل برانچ اور ڈی آئی بی کو نئے اور پرانے شیشہ کیفے سے متعلق معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق شیشہ کیفے کی نگرانی کے لیے تھانہ اور سب ڈویژن کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کمرشل مقامات کے سی سی ٹی وی کیمروں کو سیف سٹی نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ غیر قانونی شیشہ کیفے کے خلاف ڈیکوائے آپریشنز بھی کیے جا رہے ہیں۔

آئی جی اسلام آباد نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 1-Info ایپ اور دیگر ذرائع کے ذریعے غیر قانونی شیشہ کیفے کی اطلاع دیں۔ پولیس کے مطابق 4 سی سینٹر کی مدد سے ان کارروائیوں کی مرکزی سطح پر نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

آئی جی اسلام آباد نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس پر غفلت کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، اس لیے درخواست نمٹا دی جائے۔ عدالت میں شیشہ کیفے سے متعلق قواعد، ان پر عمل درآمد اور غیر قانونی مراکز کی بندش کے معاملے پر مزید کارروائی چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے مؤقف اور بیانِ حلفی سے مشروط ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button