افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز کی بڑے پیمانے پر منسوخی، حکومت نے تفصیلات جاری کردیں
وزارت داخلہ کے مطابق 2022 سے 2026 کے دوران 326,341 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ ان کارڈز کی قانونی حیثیت مشکوک قرار دی گئی۔

حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز کی منسوخی سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2026 تک مجموعی طور پر 3 لاکھ 26 ہزار 341 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔
وزیر برائے داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق منسوخ کیے گئے شناختی کارڈز کی قانونی حیثیت مشکوک تھی۔ وزارت داخلہ نے پانچ سال کے دوران شناختی کارڈز کی منسوخی کے سالانہ اعداد و شمار بھی ایوان میں پیش کیے۔
افغان شہریوں کے منسوخ پاکستانی شناختی کارڈز
سال وار تفصیلات، 2022 تا 2026
ماخذ: وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار
2022 اور 2023 میں کتنے شناختی کارڈ منسوخ ہوئے؟
وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 کے دوران 62 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 117 رہی۔
2024 میں منسوخی کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کر گئی
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق 2024 کے دوران 8 ہزار 609 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ اس طرح 2022 اور 2023 کے مقابلے میں 2024 میں منسوخ کیے گئے شناختی کارڈز کی تعداد زیادہ رہی۔
2025 میں 62 ہزار سے زائد شناختی کارڈ منسوخ
وزارت داخلہ کے مطابق 2025 کے دوران 62 ہزار 414 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار میں اس سال کے دوران منسوخی کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
2026 میں 2 لاکھ 55 ہزار سے زائد شناختی کارڈز کی منسوخی
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق 2026 کے دوران 2 لاکھ 55 ہزار 139 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ یہ تعداد فراہم کردہ پانچ سالہ اعداد و شمار میں سب سے زیادہ ہے۔
پانچ سال میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 26 ہزار 341 شناختی کارڈ منسوخ
وزارت داخلہ کے مطابق 2022 سے 2026 تک منسوخ کیے گئے پاکستانی شناختی کارڈز کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 26 ہزار 341 بنتی ہے۔ سالانہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں منسوخ کیے گئے شناختی کارڈز کی تعداد پانچ سال کے مجموعی اعداد و شمار میں سب سے بڑا حصہ ہے۔
وزارت داخلہ نے یہ تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے منسوخ کیے گئے شناختی کارڈز کی قانونی حیثیت مشکوک ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ فراہم کردہ معلومات میں شناختی کارڈز کی منسوخی کے انفرادی مقدمات، وجوہات یا متعلقہ شہریوں کے لیے اپیل کے طریقۂ کار کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔



