اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ سے مسٹر پتلو کو بڑا ریلیف، 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے دو افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس کو اس مدت کے دوران گرفتار کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے معروف ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے 10 نومبر 2026 تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور پولیس کو مقررہ تاریخ تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار سرفراز ڈوگر نے مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر مسٹر پتلو اپنے وکیل بیرسٹر قاسم نواز عباسی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر عدالت پہنچے تھے۔

دورانِ سماعت مسٹر پتلو کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے مہندی کی تقریب کے انعقاد کے لیے متعلقہ حکام سے باقاعدہ اجازت نامہ (این او سی) حاصل کیا تھا۔ وکیل کے مطابق تقریب کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور سکیورٹی انتظامات کی نگرانی متعلقہ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جس وقت گراؤنڈ میں بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا، مسٹر پتلو وہاں موجود نہیں تھے بلکہ اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ انہوں نے اپنے مؤکل کی جان کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا اور مبینہ پولیس مقابلے میں نشانہ بنائے جانے کے امکان سے متعلق تحفظات عدالت کے سامنے رکھے۔

دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں اس مدت کے اندر متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے پولیس کو بھی 10 نومبر تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

سیالکوٹ میں بھگدڑ کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

واضح رہے کہ مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب سیالکوٹ کے ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد ہوئی تھی، جہاں انعامات کی تقسیم کے اعلانات کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔

پولیس کے مطابق تقریب کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر شرکاء کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد اچانک بھگدڑ مچ گئی اور متعدد افراد ہجوم تلے دب گئے۔

واقعے میں عقیل نامی شخص موقع پر جاں بحق ہوگیا، جبکہ ریحان نامی دوسرا زخمی شخص دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں 18 افراد زخمی بھی ہوئے۔

مسٹر پتلو سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ

واقعے کے بعد سیالکوٹ پولیس نے تھانہ موترہ میں مقدمہ درج کیا، جس میں مسٹر پتلو، ان کے بھائی کاشف بشیر، گراؤنڈ کے مالک شاہد جاوید اور تقریب کے دیگر منتظمین سمیت 9 افراد نامزد کیے گئے، جبکہ تقریباً 45 نامعلوم سکیورٹی گارڈز کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق تقریب کے منتظمین پر حفاظتی انتظامات اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ واقعے کے سلسلے میں 6 افراد کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے مطابق تقریب کے لیے محفلِ سماع کے انعقاد کا اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا، تاہم مقررہ شرائط اور اوقات کی خلاف ورزی کے باعث اجازت نامہ منسوخ کردیا گیا تھا۔

مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو بیان میں واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے حادثہ قرار دیا اور اپنی ذمہ داری سے انکار کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بھگدڑ کے وقت وہ گراؤنڈ میں موجود نہیں تھے بلکہ کمر کی تکلیف کے باعث اسپتال میں طبی معائنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد اب مسٹر پتلو کو 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔ حفاظتی ضمانت کی منظوری مقدمے میں بریت یا الزامات کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے۔

Tribune Desk

اسلام آباد ٹریبیون ایک مستند ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو اسلام آباد میں تازہ ترین خبروں، حکومتی امور، عوامی مسائل، کاروبار، تعلیم، امن و امان اور سماجی و عوامی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے۔ ہمارا مقصد درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے شہریوں تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا اور پاکستان کے دارالحکومت کو درپیش اہم معاملات سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام آباد ٹریبیون — اسلام آباد کو باخبر رکھنا ہمارا عزم۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button