تعلیم

وزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکول اسلام آباد کی افتتاحی تقریب سے خطاب، معیاری تعلیم پر زور

دانش سکولوں کا قیام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے وژن کا حصہ ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں دانش سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 18 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دانش اسکولوں کا قیام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے وژن کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی وسائل کی کمی لاکھوں ذہین بچوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور آگے بڑھنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اس لیے دانش اسکولوں کا مقصد انہیں ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ بلکہ ان سے بہتر تعلیم فراہم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب وہ پنجاب کے خادم تھے تو ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ صاحب ثروت خاندانوں کے بچے ایچی سن کالج جیسے ممتاز اداروں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں اور محروم خاندانوں کے ذہین بچوں کے لیے ایسے مواقع حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی وژن کے تحت 2010 میں دانش اسکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تاکہ غریب اور مستحق بچوں کو بھی معیاری تعلیم کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں ذہین اور باصلاحیت لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں جو اپنی محنت، قابلیت اور مسلسل کوششوں سے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم غریب خاندانوں کے لیے تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے دانش اسکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں سے ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹرز، انجینئرز، پولیس افسران، بیوروکریٹس، سیلز منیجرز اور اساتذہ سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خصوصی صلاحیتوں کی حامل ایک طالبہ کی مثال دی، جس نے مشکلات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ وزیراعظم نے بہاولپور سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کا بھی ذکر کیا جس نے بچپن میں والد کو کھو دیا تھا، تاہم بعد ازاں ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کے قابل ہوئی۔ انہوں نے دانش اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر بننے والے ایک نوجوان کا بھی ذکر کیا، جس کی والدہ تقریب میں موجود تھیں۔

وزیراعظم نے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دانش اسکولوں میں بچوں کو شفقت اور اپنائیت کا ماحول ملتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارے اس تصور کو فروغ دے رہے ہیں کہ پاکستان کے تمام بچے، خواہ ان کا تعلق بلوچستان، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان سے ہو، برابر ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ دانش اسکولوں کا دائرہ پنجاب سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیل رہا ہے۔ اس وقت آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 27 دانش اسکول زیر تعمیر ہیں۔

انہوں نے دانش اسکولوں اور پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کو قائداعظم محمد علی جناح کے اس تصور کی تعبیر قرار دیا کہ کراچی سے پشاور تک ہر بچے کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے لیے لوگوں نے قربانیاں دیں تاکہ ایسا ملک وجود میں آئے جہاں ہر شخص اپنی محنت، قابلیت، امانت اور دیانت کی بنیاد پر مقام حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام بچوں کو تعلیم اور علاج کے مساوی مواقع فراہم کیے بغیر قائداعظم کے تصور کے مطابق پاکستان کی تشکیل ممکن نہیں۔

تقریب کے موقع پر وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ اسلام آباد دانش اسکول 30 ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ طلبہ اور طالبات کے لیے الگ الگ تعلیمی بلاکس بنائے گئے ہیں، جن میں ہر بلاک میں 24 کلاس رومز موجود ہیں۔ اسکول میں آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس لیبارٹریوں کے علاوہ ای لائبریری اور آرٹ روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق اسکول میں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت سے کلاسز شروع کی گئی ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 360 ہونہار بچوں کو 100 فیصد میرٹ پر داخلہ دیا گیا ہے، جبکہ 38 اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق تدریسی عملے میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے دانش سکولوں میں مختلف صوبوں اور علاقوں سے آنے والے طلبہ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے بتایا کہ جب وہ ڈیرہ غازی خان کے دانش سکول پہنچا تو اسے خدشہ تھا کہ پنجاب میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، لیکن وہاں اسے اور دیگر صوبوں کے بچوں کو ایسی شفقت اور اپنائیت ملی جیسے ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ پیش آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دانش سکول نے ان بچوں کو یہ احساس دلایا کہ یہی اصل پاکستان ہے جہاں سب برابر ہیں اور سب ایک ہیں، خواہ ان کا تعلق بلوچستان، پنجاب، سندھ ، خیبر پختونخوا آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان سے ہو۔

افتتاحی تقریب سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے کلاس رومز، سائنس، آئی ٹی اور روبوٹکس لیبارٹریوں اور آرٹ روم کا دورہ کیا اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے زیر تعلیم بچوں سے ملاقات کی اور مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے ان کے جذبے کو سراہا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دانش اسکولوں میں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں کے قیام اور جدید علوم و ٹیکنالوجی تک طلبہ کی رسائی کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے تاکہ نوجوان جدید مہارتیں حاصل کرکے پاکستان اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

انہوں نے ان وزرا، سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، چیف سیکرٹریز اور وزرائے اعلیٰ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دانش سکولوں کے لیے زمینوں کے انتخاب اور دیگر انتظامی امور میں تعاون کیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ دانش سکولوں میں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریاں قائم کرنے اور جدید علوم و ٹیکنالوجی تک طلبہ کی رسائی کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے تاکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جدید مہارتیں حاصل کرکے پاکستان اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں ۔

وزیراعظم دانش سکول میں زیرتعلیم طالب علموں سے بھی ملے اور ان سے شفقت بھری گفتگو کی ۔وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے جذبے کو سراہا۔اس موقع پر بچوں نے وزیراعظم کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کو دانش سکول کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ دانش سکول اسلام آباد 30 ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے، طلبہ اور طالبات کیلئے الگ الگ اکیڈمک بلاکس بنائے گئے ہیں، ہر بلاک میں 24 کلاس رومز، آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس لیبز بنائی گئی ہیں۔ای لائبریری اور آرٹ روم بھی بنائے گئے ہیں، سکول میں کلاسز ششم، ہفتم اور ہشتم سے شروع کی گئی ہیں اور ہر کلاس میں 120 بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

Muhammad Nasir Butt

محمد ناصر بٹ میڈیا اور کمیونیکیشن اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے اسکالر ہیں اور جعلی خبروں، غلط معلومات، مصنوعی ذہانت اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے شعبوں میں تخصص رکھتے ہیں۔ وہ اسلام آباد ٹریبیون، پاکستان نیریٹو اور فیک نیوز واچ ڈاگ کے بانی اور مدیر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی ممبر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک سینئر براڈکاسٹ صحافی ہیں اور سی این بی سی پاکستان، کیپیٹل ٹی وی اور پبلک نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کی صحافتی رپورٹنگ کا محور بین الاقوامی امور، انسدادِ دہشت گردی، نوجوانوں کے مسائل اور معلومات کی درستگی و شفافیت ہے۔ ان سے ای میل کے ذریعے nasir@islamabadtribune.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button