اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست دائر، الیکشن کمیشن کا 21 اکتوبر کا حکم چیلنج
چوہدری امجد علی نے آئینی درخواست دائر کردی، درخواست میں الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2026 کے حکم اور انتخابی شیڈول کو کالعدم قرار دینے، نئی حلقہ بندیاں کرانے اور عدالتی فیصلے تک انتخابی عمل معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اسلام آباد: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ انتخابی شیڈول کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ چوہدری امجد علی نے الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2026 کے حکم اور انتخابی شیڈول کے خلاف آئینی درخواست دائر کی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پرانی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 21 اکتوبر کے حکم اور انتخابی شیڈول کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور قانونی تنازع حل ہونے تک انتخابی عمل معطل یا ملتوی کیا جائے۔
پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کا معاملہ
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے بلدیاتی اداروں کی قانونی مدت فروری 2021 میں ختم ہو چکی ہے، جبکہ الیکشنز ایکٹ 2017 کے مطابق مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا قانونی تقاضا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر انتخابات کرانا چاہتا ہے، حالانکہ اسلام آباد کے بلدیاتی نظام اور حلقہ بندیوں کے قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک کا تعین ضروری ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قانونی تنازع حل ہونے تک نئی اور شفاف حلقہ بندیاں کرانے کا حکم دیا جائے۔
بلدیاتی انتخابات کا انتخابی شیڈول
درخواست کے مطابق الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا حکم جاری کیا تھا۔ انتخابی شیڈول کے تحت 2 نومبر سے 6 نومبر 2026 تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخیں مقرر کی گئی ہیں، جبکہ پولنگ 20 دسمبر 2026 کو ہونا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ قانونی صورتحال میں پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے سے پہلے متعلقہ قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
حلقہ بندیوں اور قانون سازی کی تفصیلات
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 12 دسمبر 2024 کو حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا تھا، جبکہ 26 دسمبر 2025 کو انتخابی پروگرام جاری کرتے ہوئے پولنگ کی تاریخ 15 فروری 2026 مقرر کی گئی تھی۔ تاہم بلدیاتی قانونی ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث یہ انتخابی پروگرام بعد میں واپس لے لیا گیا۔
درخواست کے مطابق 9 جنوری 2026 کو لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس نمبر 2 جاری کیا گیا، جو 10 جنوری کو شائع ہوا۔ اس آرڈیننس کے تحت اسلام آباد میں 3 ٹاؤن کارپوریشنز اور ملٹی ممبر وارڈز کا نظام تجویز کیا گیا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سینیٹ ریکارڈ کے مطابق آرڈیننس کو 7 مئی 2026 کو 120 دن کی توسیع دی گئی، جو ستمبر 2026 میں ختم ہوگئی، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے 3 ستمبر 2026 کو ترمیمی بل منظور کرنے کی سفارش کی تھی۔
130 یونین کونسلز اور سابقہ بلدیاتی نظام کا تنازع
درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن نے 25 اگست 2026 کو یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کا ٹائم ٹیبل تبدیل کیا، جبکہ 14 اکتوبر 2026 کی فارم 09 کی حتمی فہرستوں میں 3 ٹاؤن کارپوریشنز کے تحت 130 یونین کونسلز ظاہر کی گئیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت اسلام آباد میں 125 یونین کونسلز اور 1,125 جنرل وارڈز کا نظام موجود تھا، جس کے باعث موجودہ حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے فریق
آئینی درخواست میں الیکشن کمیشن، وزارت داخلہ، وزارت قانون، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک واضح کیا جائے اور نئی حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات کرانے کے عمل کو روکا جائے۔


