جیل ٹرائل آرٹیکل 10 کے خلاف تھا، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں دائر
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا کے خلاف اپیلوں کے ساتھ سزا معطلی کی درخواستیں بھی دائر کر دیں، اپیلوں میں جیل ٹرائل کو آرٹیکل 10 کے منافی اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے سزا کالعدم کرنے اور رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر دی ہیں۔ دونوں کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔
اپیلیں ایڈووکیٹ فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ کے ذریعے دائر کی گئی ہیں، جن میں ٹرائل کے شفاف نہ ہونے سے متعلق مختلف عدالتی نظیروں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اپیلوں میں ٹرائل کی شفافیت پر سوالات
اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 10 کے تقاضوں کے برخلاف جیل میں ٹرائل کیا گیا، جو ایک خفیہ ٹرائل کی مانند تھا۔
درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔
سزا معطلی اور رہائی کی استدعا
اپیلوں کے ساتھ دائر درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ جب تک اپیلیں زیر التوا ہیں، سزا معطل کرکے دونوں کو اس کے قانونی مضمرات کے تحت رہا کیا جائے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔



