حکومتِ پاکستان اور علی بابا کا بڑا اشتراک، چھوٹے کاروباروں کیلئے 22 کھرب روپے کے قرضوں کا ہدف
وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ، کاروباری قرضوں تک رسائی اور مقامی زبانوں میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے کاروباری افراد کو بااختیار بنانے اور مالی معاونت تک رسائی آسان بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے 2028 تک ایس ایم ای قرضوں کی مجموعی مالیت 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں عالمی ای کامرس کمپنی علی بابا اور سمیڈا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے تحت دو سال میں 10 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت سمیڈا کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں ادارے میں جاری اصلاحات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں ملکی معیشت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق سمیڈا میں جاری اصلاحات کا محور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے۔
وزیراعظم نے پسماندہ علاقوں کے عوام کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان علاقوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آئے گی اور ملک کی مجموعی ترقی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے افراد کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

وزیراعظم نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو کاروباری قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور عوام میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مختلف شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے قیام کے لیے شعبہ جاتی ماہرین سے فیزیبلٹی اسٹڈیز تیار کروانے اور انہیں مقامی زبانوں میں بھی دستیاب بنانے کی ہدایت کی، تاکہ ملک بھر کے خواہش مند کاروباری افراد ان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سمیڈا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کو تربیت فراہم کرنے اور مالی معاونت کے حصول کے لیے بینکوں سے رابطے میں سہولت دے گا۔ ایس ایم ای شعبے سے وابستہ افراد تک مؤثر رسائی یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں سمیڈا کے دفاتر بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے مقامی زبانوں میں معلومات اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایس ایم ای ڈیجیٹل پورٹل کو مزید مؤثر اور کاروباری افراد کے لیے آسان بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی ای کامرس کمپنی علی بابا اور سمیڈا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے تحت دو سال کے عرصے میں 10 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



