وفاقی دارالحکومت کے امور

فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس، خیبر پختونخوا کے عوام کو 180 دن میں ریلیف ملے گا

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات ضروری ہیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا گیا۔

اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پاکستان کے قومی پرچم اور ترانے کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو 180 دن میں ریلیف ملے گا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران تباہی دیکھی گئی اور صوبے میں امن و امان کی تشویش ناک صورت حال کے باعث ایمرجنسی ناگزیر تھی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں، اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سوال اٹھایا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بات کرنے اور شہدا کے بارے میں منفی گفتگو کرنے والوں کے خلاف سخت ردعمل ہونا چاہیے۔ فیصل واوڈا نے یہ بھی کہا کہ قومی پرچم اور ترانے کی بے حرمتی کرنے والوں کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے سلسلہ شروع ہوا ہے اور سیاسی، ریاستی اور ملکی سطح پر دہشت گردی سمیت دیگر مسائل کو زیرِ بحث لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ٹوٹنے نہیں جا رہا اور نہ ہی ملک کے حوالے سے ایسی کوئی صورت حال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو ریلیف سے سروکار ہے اور آئندہ کارکردگی کی بنیاد پر معاملات آگے بڑھیں گے۔ ان کے مطابق 60 دن کے اندر نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے 180 دن کی مدت کا ذکر بھی کیا۔

فیصل واوڈا نے سیاسی نظام کے حوالے سے کہا کہ وہ نظام کو دوبارہ شروع ہوتے دیکھ رہے ہیں اور جمہوریت چلانے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ جماعت کے نعرے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کہا کہ وہ انہیں گھٹیا سیاست دان نہیں سمجھتے اور ملکی ترقی کے معاملات میں ان کے ساتھ تعاون کی امید رکھتے ہیں۔ فیصل واوڈا نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی کابینہ میں اچھے لوگوں کو دیکھا تھا اور وہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی مشکلات سے نکالنا چاہتے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button