پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نہ نکالنے پر عدالت برہم، حکام کو کل تک کی مہلت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وجاہت حسین کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر متعلقہ حکام کو کل تک مہلت دے دی۔ سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شہری وجاہت حسین کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نہ نکالنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو کل تک عمل درآمد کی مہلت دے دی۔
جسٹس اعظم خان نے سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور اور ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔ حکام نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ نظرثانی کمیٹی کے سامنے ہے۔
اس پر جسٹس اعظم خان نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی کمیٹی ہائیکورٹ کے عدالتی حکم کا جائزہ لے گی؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ضروری ہے اور فیصلے سے اختلاف کی صورت میں اسے قانونی طریقے سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ انصاف کے لیے رجوع کرنے والے بے بس اور کمزور شہریوں کو ریلیف ملنا چاہیے۔ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام نے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔
عدالت نے حکم دیا کہ وجاہت حسین کا نام کل تک پی سی ایل سے نکال کر رپورٹ پیش کی جائے، بصورت دیگر توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔



