قبرستان گرانے کی کوشش کی تو سیدھاجیل بھیجوں گا، جسٹس اعظم خان کا انتباہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر ڈی 12 کے علاقے سری سرال میں قبرستان منہدم کرنے سے روکنے کا حکمِ امتناع برقرار رکھتے ہوئے سی ڈی اے اور دیگر فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی۔ جسٹس اعظم خان نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی کارروائی اور سزا سے متعلق سخت ریمارکس دیے۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ڈی 12 کے علاقے سری سرال میں قبرستان منہدم کرنے سے روکنے کے حکمِ امتناع کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی۔
حکمِ امتناع کی خلاف ورزی پر عدالت کے ریمارکس
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ توہینِ عدالت کے معاملے میں سخت کارروائی کریں گے۔
عدالت نے تنبیہ کی کہ حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ جسٹس اعظم خان نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو واضح طور پر بتا دیا جائے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکمِ امتناع کے باوجود گزشتہ روز آپریشن کرنے کے لیے اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے۔
دوسری جانب سی ڈی اے اور دیگر فریقین کی جانب سے عدالت میں جواب جمع نہیں کرایا جا سکا۔
فریقین کو جواب جمع کرانے کی مہلت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے حکمِ امتناع برقرار رکھا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔



